صحبت پور میں جے یو آئی ہڑتال، مدارس بندش اور قتل کے خلاف احتجاج

صحبت پور (رپورٹ اعجاز پیچوہا) ضلع صحبت پور میں دینی مدارس کی مبینہ بندش اور مولانا محمد ادریس شہید کے قتل کے خلاف جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے زیر اہتمام شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ہڑتال کے باعث شہر بھر میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں اور بیشتر دکانیں بند رہیں۔
احتجاجی ریلی جے یو آئی ضلع صحبت پور کے نائب امیر امان اللّٰہ لہڑی، صوبائی رہنما ٹکری عبد الرحمن پرکانی، ضلعی جنرل سیکرٹری سومر خان بگٹی، تحصیل امیر مولانا سہیل احمد بھنگر، تحصیل جنرل سیکرٹری نثار احمد پرکانی اور سرپرست اعلیٰ قادری عبد الملک گاجانی کی قیادت میں نکالی گئی۔ ریلی میں کارکنان، دینی مدارس کے اساتذہ، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مدارس کے تحفظ اور ملزمان کی گرفتاری کے مطالبات درج تھے۔
ریلی کا آغاز جے یو آئی کے ضلعی سیکرٹریٹ سے ہوا جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی صحبت پور چوک پہنچی، جہاں اسے دھرنے کی شکل دے دی گئی۔ اس موقع پر مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش یا بندش کی کوشش ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مولانا محمد ادریس شہید کے قتل کو ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ علماء کو نشانہ بنانا علاقے میں بدامنی پھیلانے کی سازش ہے۔
مقررین نے حکومت اور انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکامی واضح ہو چکی ہے۔ انہوں نے کامیاب ہڑتال پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام دینی مدارس اور علماء کے ساتھ کھڑی ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ مولانا محمد ادریس شہید کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے، دینی مدارس کے خلاف اقدامات بند کیے جائیں اور علماء و دینی اداروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
احتجاج کے اختتام پر ملک و ملت کی سلامتی اور دینی مدارس کے تحفظ کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ قائدین نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں