آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری ’’آرٹس المنائی فیسٹیول‘‘ کے دوسرے روز میوزیکل نائٹ میں قوالی نے سماں باندھ دیا

کراچی (رپورٹر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری ’’آرٹس المنائی فیسٹیول‘‘ کے دوسرے روز کا اآغاز ’’Alumni Talk Session‘‘ سے کیاگیا ، دو تھیٹر پلے ’’میرا آنگن‘‘ اور ’’The Monkey’s Paw‘‘ پیش کیے گئے، ’’ڈی جے اینڈ Flash Mob ‘‘ میں فنکاروں نے بہترین اداکاری کا مظاہر کیا جبکہ فیسٹیول میں پیش کی جانے والی کلاسیکل پرفارمنس شائقین کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ ’’Alumni Talk Session‘‘ میں اسکول آف ویژول اینڈ پرفارمنگ آرٹس کے المنائی طحہٰ عباس، عاصم نقوی، زہرا علی، ثانی زہرا، فاہا شابی، اور حذیفہ خان نے اظہار خیال کیا۔ سیشن میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آرٹس کونسل میں ایک وقت میں ایک کے بعد ایک مسئلہ درپیش تھا، آرٹ اسکول کو ازسر نو تعمیر کیا، ہم نے اپنی آرٹ گیلری کو پرائیویٹ گیلری کی طرح نہیں چلایا، ہماری کوشش تھی کہ ہمارے المنائی کا کام مارکیٹ میں جانا شروع ہو۔ اچھے کلیکٹرز نے ان المنائی کا کام خریدااور جب ان بچوں کا کام مارکیٹ میں پہنچا تو ان کا اعتماد مزید بڑھا۔ فیکلٹی نے بھی ہمیشہ ان المنائی کا ساتھ دیا۔ میں بہت خوش ہوں۔مجھے اپنے المنائی پر فخر ہے۔ المنائی عاصم نقوی نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں اسکول آف ویژول اینڈ پرفارمنگ آرٹس کا طالب علم ہوں، یہ میرا خواب تھا جو میرے اساتذہ کی وجہ سے پورا ہو،جب مجھے اپنے آرٹ ورک سے پہلی بار پیسے ملے تو میری والدہ بہت خوش ہوئیں۔محمد احمد شاہ کا وژن بہت اچھا ہے ، وہ اس ادارے میں کام کرنے والوں کو بھی پڑھنے پر زور دیتے ہیں ، احمد شاہ کی وجہ سے بڑے بڑے کلیکٹر مجھے نام سے جانتے ہیں ۔طحہ عباس نے کہا کہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں،مجھے خوشی ہے کہ میں آرٹس کونسل آیا ،میری والدہ کو مجھ سے زیادہ مجھ پر بھروسہ تھا، ہمیں تھیسسز کے دوران بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا،پینٹنگ کوئی مشکل کام نہیں ہے، بس محنت کرنا پڑتی ہے۔المنائی فاہا شابی نے کہاکہ میٹرک کے بعد میرے استاد نے مجھ سے کہا کہ یہ فیلڈ درست نہیں لیکن کانووکیشن کے بعد انہیں مجھ پر فخرہے، زرناب بلوچ نے بھرپور انداز میں ہماری رہنمائی کی۔ آج میں اپنی کمائی ہوئی رقم سے اپنے اخراجات اٹھا رہی ہوں۔ المنائی زہرا علی نے کہا کہ جو کچھ میں نے کمایا، اس پر سب سے زیادہ خوشی میرے شوہر اور میرے والد کو ہوئی کیونکہ میرا موضوع میرے والد تھے۔جب تک ہم کسی کام کو کر کے نہیں دیکھیں گے تو وہ کام کیسے ہوگا ، میری کامیابی میں امی کا بہت بڑا ہاتھ ہے انہوں نے میرا ہر قدم پر ساتھ دیا۔ثانی زہرا نے کہا کہ مجھے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی مگر خوشی ہے کہ گھروالوں کی سپورٹ کی وجہ سے آج میں آپ کے سامنے ہوں۔ ’’المنائی ٹاک سیشن‘‘ میں نظامت کے فرائض محمد ذیشان نے انجام دیے۔ ڈرامہ ’میرا آنگن‘‘ معروف ناول نگار خدیجہ مستور کے شہرۂ آفاق ناول ’’آنگن‘‘ سے ماخوذ ایک منفرد اور فکر انگیز ڈرامہ تھا جس کی ہدایتکارہ فاطمہ عادل جبکہ ڈرامائی تشکیل ثاقب عادل ملک کی تھی۔تھیٹر میں الائزہ جاوید،ثاقب عادل، شیرل جان، منیب شیخ، فاطمہ عادل، زرقہ جبین، نفیس قمر،ریان حسن، حمزہ جہانگیر نے اپنی شاندار اداکاری سے شائقین کے دل جیت لیے جبکہ دوسرے تھیٹرپلے ’’The Monkey’s Paw‘‘ کی کہانی ایک غریب مگر خوش و مطمئن خاندان ’’وائٹ فیملی‘‘ کے گرد گھومتی نظر آئی۔ برطانوی افسانہ نگار W. W. Jacobs کے افسانے پر مبنی ڈرامے کی ہدایت کاری اور ڈرامائی تشکیل SOVAPA کے سابق طالبعلم فرحان رحیم نے کی۔ فنکاروں میں شامل رمشا ، صوفی غوث، شہریار انوراور ایاز علی نے بہترین اداکاری پیش کی جس پر حاضرین نے تالیاں بجاکر خوب داد دی۔ فیسٹیول کے دوسرے روز کا اختتام ’’گرینڈ قوالی فائنلے‘‘ کی شاندار پرفارمنس پر کیا گیا، جس نے حاضرین کو روحانی اور ثقافتی رنگ میں رنگ دیا۔ اس رنگارنگ تقریب میں قوالی کے مختلف فنکاروں نے اپنی خوبصورت اور وجد آفریں پرفارمنس سے سماں باندھ دیا، جس پر ہال میں موجود شائقین جھوم اٹھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں