رجسٹرڈ پٹرول پمپ مالکان طلب فوری متعلقہ آئل کمپنیوں کو ارسال کریں،شاہزیب خان کاکڑ

کوئٹہ(این این آئی)کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت شہر میں پٹرول کی فراہمی کو بہتر بنانے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ امیر حمزہ کے علاوہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، اوگرا اور ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران شہر میں پٹرول کی طلب اور رسد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آئل کمپنیوں کے نمائندوں نے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو موجودہ صورتحال اور سپلائی چین سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار لیٹر پٹرول سپلائی کے لیے راستے میں موجود ہے، جس کے کوئٹہ پہنچنے کے بعد موجودہ صورتحال میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔اجلاس میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ہدایت کی کہ تمام رجسٹرڈ پٹرول پمپ مالکان اپنی طلب فوری طور پر متعلقہ آئل کمپنیوں کو ارسال کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو ڈیلرز مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنی ڈیمانڈ جمع نہیں کرائیں گے، ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلرز کی جانب سے طلب بھیجنے کے بعد اس کی بروقت تکمیل کی ذمہ داری آئل کمپنیوں پر عائد ہوگی۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر پٹرول پمپوں پر کین اور بوتلوں میں پٹرول فروخت نہیں کیا جائے گا تاکہ ایندھن کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں عوام سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ پٹرول پمپ مالکان کے ساتھ تعاون کریں اور غیر ضروری ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں۔شہر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے اجلاس میں متعلقہ پولیس حکام کو گشت میں اضافے کی ہدایت بھی دی گئی تاکہ پٹرول پمپوں پر نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے اور شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے شہر میں پٹرول سپلائی کو معمول پر لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام رجسٹرڈ پٹرول پمپ مالکان کو فوری طور پر اپنی طلب جمع کرانے جبکہ آئل کمپنیوں کو سپلائی چین کو فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں، کیونکہ پٹرول کی فراہمی جلد معمول پر آ جائے گی اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں