کوئٹہ(این این آئی)نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے جاری بیان میں کہا ہے کہ نیشنل پارٹی اٹھارویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنے، این ایف سی ایوارڈ میں قومی وحدتوں کے حصے میں کسی بھی قسم کی کٹوتی اور وحدتوں کی تقسیم کی ہر تجویز کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ موجودہ صوبے محض انتظامی اکائیاں نہیں بلکہ تاریخی ثقافتی اور قومی وحدتوں کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے ان کے مستقبل سے متعلق کسی بھی فیصلے میں عوام کی رائے اور تاریخی حقائق کو مدِنظر رکھنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر قومی وحدتوں کی ازسرِنو تشکیل یا تقسیم کی بات کی جاتی ہے تو اس کا معیار سیاسی مصلحتوں کے بجائے تاریخی بنیادیں ہونی چاہئیں۔ ماضی میں سامراجی پالیسیوں اور غیر فطری انتظامی تقسیم کے نتیجے میں جو علاقے اپنی اصل قومی وحدتوں سے الگ کیے گئے تھے، انہیں دوبارہ ان وحدتوں میں شامل کیا جائے بیان میں کہا گیا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی منصفانہ تقسیم اکائیوں کی خودمختاری اور پارلیمانی جمہوریت کے استحکام کی ایک اہم آئینی پیش رفت ہے۔ اس ترمیم کے ذریع وسائل، تعلیم، صحت، ثقافت اور دیگر اہم شعبوں کی وفاق سے اکائیوں میں منتقلی ہوئی اس لیے اس ترمیم کو کمزور کرنے یا اس کے اختیارات واپس لینے کی کوئی بھی کوشش نہ صرف آئینی روح کے منافی ہوگی بلکہ چھوٹی اکائیوں کے حقوق پر بھی ضرب ہوگی۔ترجمان نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے میں کمی کا مطلب وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے،جو مسائل و مشکلات کو مذید مستحکم کرے گا۔نیشنل پارٹی وفاق کی مضبوطی کو صوبوں کے آئینی سیاسی اور معاشی حقوق کے تحفظ سے مشروط سمجھتی ہے اور اس حوالے سے ہر جمہوری و آئینی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

