بینک شہریوں کو معیاری اور بہتر خدمات فراہم کریں، نہ کہ مختلف بہانوں کے ذریعے اپنی نااہلی پر پردہ ڈالیں،انجمن تاجران کیچ

تربت (این این آئی)انجمن تاجران کیچ کے ترجمان نے تربت شہر میں مختلف بینکوں کی اے ٹی ایم مشینوں کی مسلسل بندش، ناقص بینکاری نظام، فریش نوٹوں کی عدم دستیابی اور بینکوں کے محدود اوقاتِ کار پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ایک طویل عرصے سے تربت کے بیشتر بینکوں کی اے ٹی ایم مشینیں شہریوں کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہیں۔اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی بینک کی اے ٹی ایم مشین فعال بھی ہو تو اکثر اوقات وہ آؤٹ آف سروس ہوتی ہے، جس کے باعث کھاتہ داروں، تاجروں، ملازمین، بزرگ شہریوں اور عام عوام کو شدید ذہنی اذیت اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور میں بینکاری نظام عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے، مگر تربت میں بینکوں کی ناقص کارکردگی نے شہریوں کو مشکلات کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ تنخواہوں کی ادائیگی اور کاروباری سیزن کے دوران صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے اور شہری معمولی رقوم کے حصول کے لیے ایک بینک سے دوسرے بینک کے چکر لگانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس صورتحال سے نہ صرف عوام کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ تین برسوں سے تربت میں فریش نوٹ نایاب ہو چکے ہیں جبکہ مارکیٹ میں انتہائی خستہ حال، پھٹے پرانے اور ناقابل استعمال کرنسی نوٹ گردش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے ایک، دو اور پانچ روپے کے سکے بھی بینکوں کی جانب سے فراہم نہیں کیے جا رہے، جبکہ دس، پچاس اور سو روپے کے نوٹ اس قدر خراب حالت میں ہیں کہ عوام اور کاروباری طبقہ روزانہ مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ متعدد مواقع پر دکاندار اور گاہک ایسے نوٹ لینے سے انکار کر دیتے ہیں جس سے لین دین کے معاملات متاثر ہوتے ہیں۔انجمن تاجران کیچ کے ترجمان نے بینکوں کے اس مؤقف کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ وہ اسٹیٹ بینک سے نئے نوٹ منگوانے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر زمینی راستے سے کرنسی کی ترسیل میں مشکلات درپیش ہیں تو تمام بینک باہمی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت بذریعہ ہوائی جہاز تربت کے لیے نئی کرنسی منگوائیں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری اور بہتر خدمات فراہم کریں، نہ کہ مختلف بہانوں کے ذریعے اپنی نااہلی پر پردہ ڈالیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ تربت میں بینکوں کے اوقاتِ کار بھی بلاجواز محدود کر دیے گئے ہیں۔ بیشتر بینک صبح 10 بجے کھلتے ہیں اور دوپہر 2 بجے لین دین بند کر دیتے ہیں، جس کے باعث صرف چار گھنٹے عوامی معاملات نمٹائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ عموماً دوپہر کے بعد اپنے بینکاری معاملات نمٹاتا ہے لیکن مختصر اوقاتِ کار کی وجہ سے تاجروں اور دکانداروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ ملک کے دیگر شہروں میں بینک صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک خدمات انجام دیتے ہیں، تاہم تربت میں عوام کو اس بنیادی سہولت سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے، جو سراسر ناانصافی اور عوام دشمن رویہ ہے۔انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، متعلقہ بینک حکام اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اے ٹی ایم مشینوں کی فوری بحالی، فریش کرنسی کی فراہمی اور بینک اوقاتِ کار میں بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ بصورت دیگر انجمن تاجران کیچ احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں