کوئٹہ(این این آئی)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زون کے ترجمان نے کہا ہے کہ پی ایم اے کوئٹہ زون اس امر پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتی ہے کہ خاتون ڈاکٹر پر ہونے والے انسانیت سوز تیزاب گردی کے واقعے کو21دن گزر جانے کے باوجود حکومتِ بلوچستان کی جانب سے نہ تو ملزمان کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا ہے اور نہ ہی ہمارے جائز مطالبات پر کوئی سنجیدہ پیش رفت کی گئی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت کی بے حسی اور غیر سنجیدگی کے باعث ڈاکٹر برادری آج بھی سراپا احتجاج ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ برانچ کی جانب سے جاری دھرنے کے باعث پورے صوبے میں او پی ڈیز کی خدمات احتجاجاً معطل ہیں، تاہم مریضوں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایمرجنسی، انڈور، وارڈز، آپریشن تھیٹرز، ڈائیلاسز اور دیگر ضروری طبی خدمات حسبِ معمول جاری ہیں تاکہ عوام کو زندگی بچانے والی سہولیات سے محروم نہ ہونا پڑے۔ہمارا مطالبہ نہ تو غیر آئینی ہے اور نہ ہی غیر معقول ہے ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس افسوسناک واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار عدالتی (جوڈیشل) انکوائری کرائی جائے، اور انکوائری مکمل ہونے تک متعلقہ ذمہ دار انتظامی افسران، سیکرٹری ہیلتھ اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول ہسپتال کوئٹہ کو عہدوں سے الگ کیا جائے تاکہ تحقیقات پر کسی قسم کا اثر، دباؤ یا مداخلت نہ ہو سکے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک افسر کو بچانے کی خاطر حکومت نے گریڈ 18، 19 اور 20 کے تیس سے زائد سینئر ڈاکٹرز و افسران کے خلاف معطلی اور تادیبی کارروائیاں کیں، جو نہ صرف ناانصافی بلکہ پوری ڈاکٹر برادری کی تذلیل کے مترادف ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زونتمام ممبران کو مطلع کرتی ہے کہ بروز سوموار سول ہسپتال کوئٹہ میں جنرل باڈی اجلاس منعقد ہوگا، جس میں تمام ممبران کی بھرپور شرکت نہایت ضروری ہے اس اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل، بشمول اسلام آباد لانگ مارچ، احتجاج کے دائرہ کار میں توسیع اور دیگر تنظیمی فیصلوں پر غور کیا جائے گااسی سلسلے میں بروز منگل سول ہسپتال کوئٹہ سے ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی جائے گی پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن تمام ڈاکٹرز، طبی تنظیموں اور ممبران سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس ریلی میں بھرپور شرکت کرکے اپنے اتحاد اور پیشہ ورانہ وقار کا عملی مظاہرہ کریں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ برانچ ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، صوبائی وزیر صحت، چیف جسٹس بلوچستان اور متعلقہ ریاستی اداروں سے پْرزور اپیل کرتی ہے کہ وہ اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے فوری اور منصفانہ اقدامات کریں ڈاکٹر برادری صرف اپنی جان کے تحفظ، شفاف تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے یہ مطالبات نہ بڑے ہیں اور نہ ہی غیر مناسب، بلکہ انصاف، قانون کی بالادستی اور محفوظ طبی ماحول کے لیے ناگزیر ہیں۔ترجمان نے کہا کہ پی ایم اے حکومت سے بھی اپیل کرتی ہے کہ ضد اور تاخیر کی بجائے مسئلے کو افہام و تفہیم کے ذریعے فوری حل کرے تاکہ ڈاکٹر برادری اطمینان کے ساتھ اپنی مکمل طبی خدمات دوبارہ عوام کے لیے بحال کر سکے۔

