کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار، سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی پیش رفت پائیدار امن اور کشیدگی میں کمی کا باعث بنتی ہے تو نہ صرف خلیجی خطہ بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی منڈیاں اور علاقائی سفارت کاری بھی ایک نئے دور میں داخل ہو سکتی ہیں۔ ایسے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان اپنی منفرد جغرافیائی حیثیت کے باعث انتہائی اہم کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور چین کے سنگم پر واقع پاکستان عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور علاقائی روابط کا قدرتی مرکز ہے۔ خطے میں استحکام کی صورت میں بیرونی سرمایہ کاری، تجارتی سرگرمیوں، بندرگاہی خدمات، لاجسٹکس اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ گوادر بندرگاہ، سی پیک، خصوصی اقتصادی زونز اور علاقائی رابطہ منصوبے پاکستان کو خطے کی معاشی سرگرمیوں کا اہم مرکز بنا سکتے ہیں۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان اپنی متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے امریکہ، ایران، چین، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات کو مؤثر معاشی تعاون میں تبدیل کر سکتا ہے۔ توانائی، تیل و گیس، معدنیات، زرعی برآمدات، آئی ٹی، تعمیرات اور ہنرمند افرادی قوت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات مزید روشن ہو سکتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے سیاسی استحکام، معاشی اصلاحات، سرمایہ کار دوست ماحول، پالیسیوں کا تسلسل اور فعال سفارت کاری ناگزیر ہیں۔ صرف جغرافیائی اہمیت کسی ملک کو ترقی نہیں دیتی بلکہ دانشمندانہ حکمت عملی، مؤثر حکمرانی اور بروقت فیصلے ہی قومی مفادات کو پائیدار معاشی کامیابی میں بدلتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی تبدیلیاں پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی معاشی موقع ثابت ہو سکتی ہیں، بشرطیکہ حکومت سفارتی ساکھ، جغرافیائی اہمیت اور اقتصادی صلاحیت کو ایک مربوط قومی حکمت عملی کے تحت بروئے کار لائے۔ اگر پاکستان علاقائی روابط، سرمایہ کاری اور تجارتی راہداریوں سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو گیا تو وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت میں بھی ایک باوقار اور مؤثر مقام حاصل کر سکتا ہے۔

