بلوچستان میں آئی ٹی، انجینئرنگ، زرعی اور سائنس و ٹیکنالوجی کی جامعات کا قیام تعلیم، روزگار، خوشحالی اور امن کی طرف راستہ ہے، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سڑکوں، عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ علم، ہنر اور روزگار کے ایسے نظام میں موجود ہے جو نوجوانوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے قابل بنائے۔ صوبے میں آئی ٹی، انجینئرنگ، زرعی، سائنس و ٹیکنالوجی کی معیاری جامعات کا قیام اسی سمت میں ایک فیصلہ کن قدم ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پہلے ہی بعض خصوصی جامعات موجود ہیں، مگر صوبے کے وسیع رقبے اور آبادی کے تناظر میں اعلیٰ تعلیم، جدید علوم اور باوقار روزگار تک رسائی کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ انجینئرنگ یونیورسٹیاں بلوچستان کے معدنیات، توانائی، تعمیرات، پانی، گوادر اور صنعتی شعبوں کیلئے مقامی ماہرین پیدا کر سکتی ہیں۔ زرعی یونیورسٹیاں خشک سالی، آبپاشی، جدید کاشتکاری، لائیو اسٹاک اور زرعی ٹیکنالوجی پر تحقیق کرکے صوبے کی معیشت کو نئی بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ٹی یونیورسٹیاں بلوچستان کے نوجوانوں کو سافٹ ویئر، مصنوعی ذہانت، سائبر ٹیکنالوجی، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل معیشت سے جوڑ سکتی ہیں، جبکہ سائنس و ٹیکنالوجی یونیورسٹیاں جدید تحقیق، اختراع اور صنعتی ترقی کیلئے نئی راہیں کھول سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ادارے صرف طلبہ کو تعلیم نہیں دیں گے بلکہ روزگار کا پورا ماحولیاتی نظام پیدا کریں گے۔ اساتذہ، محققین، انتظامی عملہ، ٹیکنیکل ماہرین، لیبارٹری اسٹاف اور معاون شعبوں میں ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوں گی۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ سب سے اہم پہلو امن اور انتہاپسندی کا ہے۔ جب نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق کے بجائے کتاب، لیبارٹری، کمپیوٹر اور ہنر ہو تو محرومی کی جگہ امید جنم لیتی ہے۔ بلوچستان کے باصلاحیت طلبہ کیلئے ہزاروں وظائف کو یقینی بنانا بھی اسی قومی ذمہ داری کا حصہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں آئی ٹی، انجینئرنگ، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر جدید علوم کی نئی جامعات کا قیام محض تعلیمی منصوبہ نہیں بلکہ غربت، بے روزگاری، جہالت اور بدامنی کے خلاف ایک جامع قومی سرمایہ کاری ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومت کو چاہیے کہ بلوچستان کے ہر ڈویڑن کی معاشی ضرورت کے مطابق خصوصی جامعات قائم کرے، عالمی معیار کی لیبارٹریاں بنائے، جدید تحقیقی مراکز قائم کرے اور مقامی نوجوانوں کو داخلوں، وظائف اور روزگار میں ترجیحی مواقع فراہم کرے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ بلوچستان کی جامعات سے حاصل ہونے والا علم اور تحقیق ہی صوبے کو محرومی سے خود انحصاری اور بدامنی سے پائیدار امن کی طرف لے جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں