اسلام آباد (رپورٹر ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے ڈیرہ اسماعیل خان کے درازندہ علاقے میں پولیس اور کسٹمز کی مشترکہ چیک پوسٹ پر خودکش حملے کی شدید مذمت اور رنج و غم کاا ظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے مذمتی بیان میں مذکورہ خودکش حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی چیک پوسٹ کو نشانہ بنانا دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔ معصوم شہریوں اور وطن کے دفاع پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ پوری قوم شہداء کے خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم، پاک فوج، پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا عزم غیر متزلزل ہے۔ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے حالیہ کارروائیوں کے دوران دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کا سلسلہ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ملک بھارت کے ٹکڑوں پر پلنے والے مفاد پرست عناصر معصوم نوجوانوں کوورغلا کر ان کو اندھیروں میں دھکیل رہے ہیں ور خود اور اپنے بچوں کو اپنے مقاصد میں شامل نہیں کرتے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے مزید کہا کہ دہشت گرد کبھی بھی بلوچستان سے مخلص نہیں ہو سکتے۔ وہ جان بوجھ کر بلوچستان کے معصوم نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک کر رہے ہیں کیونکہ یہی نوجوان اپنی صلاحیتیں استعمال کر کے بلوچستان کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن بدبخت دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے انہیں موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد چاہے کسی بھی نام یا تنظیم کے پردے میں کارروائیاں کریں، ان کا مقصد پاکستان میں بدامنی، خوف اور انتشار پیدا کرنا ہے، لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ قوم اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ایک صفحے پر ہیں۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں، معاونین اور مالی و انتظامی نیٹ ورک کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے۔ دہشت گردی کے اس پورے نیٹ ورک کو ختم کیے بغیر مستقل امن کا قیام ممکن نہیں۔ انہوں نے افغانستان کو بھی واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ افغانستان کی عبوری حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود بی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت پاکستان مخالف مسلح عناصر کے خلاف قابلِ اعتماد، مؤثر اور عملی اقدامات کرے اور انہیں پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں ہمسایہ اور برادر اسلامی ممالک ہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام امن، استحکام اور باہمی تجارت کے خواہاں ہیں۔ اگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ایک دوسرے کے خلاف الزامات کے بجائے عملی تعاون کو فروغ دیا جائے تو پاک افغان تعلقات میں بہتری اور حالات کو معمول پر لانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اپنی سرزمین، عوام اور قومی سلامتی کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں پائیدار امن و سلامتی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور ریاستی ادارے پوری قوم کے تعاون سے دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کریں گے۔

