کوئٹہ(این این آئی)چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کی خدمت اور فلاح و بہبود کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے ہر ممکن وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عام عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ شفافیت، جوابدہی اور عوامی شراکت داری کو بنیاد بنا کر ہماری ترجیحات میں عوامی سہولیات کی فراہمی، صحت، تعلیم، روزگار اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری شامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبے بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں پیشرفت، اشیاء خوردونوش کی قیمتوں پر نگرانی، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیوں، غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کی واپسی اور کھلی کچہریوں میں عوامی شکایات کے ازالے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مانیٹرنگ اینڈ ایویلوایشن سیکشن نے کل 3,020 ترقیاتی منصوبوں میں سے 2,898 منصوبوں کا دورہ کیا جن میں سے 2,382 سکیمات مکمل پائی گئیں۔ بی ایس ڈی آئی کے فیز-1 اور فیز-2 کے تحت کل 2,178 منصوبوں میں سے 1,765 اسکیمات مکمل ہو چکی ہیں جبکہ باقی منصوبے بھی جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے عوام کی معیارِ زندگی بہتر بناتے ہیں کیونکہ یہ بنیادی سہولتوں، روزگار، تعلیم، صحت اور رابطہ کاری میں بہتری لاتے ہیں۔ جب یہ منصوبے بروقت اور مؤثر طریقے سے مکمل ہوں تو ان کے فائدے براہِ راست عام آدمی تک پہنچتے ہیں۔ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ نے متعلقہ اضلاع میں قیمتوں کے استحکام کے لیے مارکیٹس کا دورہ کیا۔ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کوئی بھی سرکاری نرخوں سے،یادہ پر اشیاء نہ بیچے۔ انہوں نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی تاکہ عام عوام کو مناسب نرخوں پر اشیاء میسر ہوں۔ غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کی وطن واپسی کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی کہ اب تک بلوچستان سے تقریباً 8 لاکھ افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے اور واپسی کے عمل کو منظم انداز میں جاری رکھا جائے گا۔ چیف سیکرٹری نے کھلی کچہریوں کے ذریعے عوامی شکایات کے فوری ازالے پر زور دیا اور ہدایت کی کہ ضلعی سطح پر عوامی مسائل کے حل کے لیے تسلسل کے ساتھ کھلی کچہریاں منعقد کی جائیں تاکہ شہریوں کے مسائل بروقت حل ہوں۔

