سٹی 42:ٹیوشن سنٹر میں 14 بچوں کی ہلاکت؛ وزیر تعلیم کے بیان اور ایجوکیشن اتھارٹی کی رپورٹ میں تضاد سامنےآگیا . وزیر تعلیم کے مطابق ٹیچر ایک پسماندہ علاقے میں اپنے گھر میں محلے کے بچوں کو پڑھا رہی تھی جبکہ ایجوکیشن اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق خاتون اپنے رشتہ داروں کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی۔
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کاہنہ میں گھر کی چھت گرنے سے ٹیوشن پڑھنے والے بچوں کی ہلاکت کے واقعہ پر اظہار افسوس کیا اور جاں بحق ہونے والی معصوم جانوں کے والدین سے اظہار تعزیت و ہمدردی کیا ۔
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا ٹیوشن سنٹر گھر میں کھلا ہوا تھا، یہ سکول یا باقاعدہ اکیڈمی نہیں تھی۔ ٹیچر ایک پسماندہ علاقے میں اپنے گھر میں محلے کے بچوں کو پڑھا رہی تھی۔ سی ای او ایجوکیشن موقع پر موجود ہیں۔ معصوم بچوں کی ہلاکت ناقابل تلافی نقصان ہے۔ معصوم جانوں کے ضیاع پر انتہائی افسوس ہے، متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، انسانی جانوں کا نقصان کسی بھی صورت پورا نہیں کیا جا سکتا۔
وزیر تعلیم کی زخمی بچوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعاکی ۔
کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے پرایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے واقعہ کی رپورٹ تیار کرلی۔ رپورٹ کے مطابق حادثے کا شکار ٹیوشن سینٹر ایک رہائشی گھر میں قائم تھا، ٹیوشن سینٹر کسی سرکاری ادارے کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھا، خاتون اپنے رشتہ داروں کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی۔حادثے کے وقت ٹیوشن سینٹر میں 25 سے 30 بچے موجودتھے۔
ایجوکیشن اتھارٹی نے انکوائری رپورٹ ضلعی انتظامیہ کو ارسال کر دی۔
سی ای او طارق محمود کے مطابق گھروں میں قائم ٹیوشن سینٹرز کی رجسٹریشن کا کوئی نظام موجود نہیں، نجی ٹیوشن سینٹرز محکمہ تعلیم کے دائرہ رجسٹریشن میں نہیں آتے،
ضلعی انتظامیہ رپورٹ کی روشنی میں آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی۔

