کیرتھر کینال میں پانی کی شدید قلت، زمینداروں کا 4 جولائی کو دھرنے کا اعلان

اوستہ محمد (نامہ نگار عابدعلی) اوستہ محمد کے معروف زمیندار میر حسن خان شہلیانی میر خالد خان جمالی علی بخش جمالی ظفراللہ شہلیانی عمران خان جمالی ناصر جمالی غلام علی جمالی محبوب علی ترین نیاز احمد عمرانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کھیرتھر کینال میں زرعی پانی کی قلت شدت اختیار کرچکی ہے جبکہ ہمارا علاقہ زراعت سے وابستہ ہے زرعی پانی نا ہونے سے بیج کو بڑا نقصان ہو رہا ہے اور مال مویشی بھی پیاس سے مر رہے علاقے کے زمیندار اور کاشتکار سخت پریشان ہیں روایت کے مطابق اس سال بھی سندھ حکومت کی جانب سے بلوچستان کو حصے کا پانی فراہم نا کرنے والی رٹ برقرار ہے ہمیشہ کی طرح سندھ پانی کے معاملے پر ہمارے ساتھ نا انصافی کرتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے پانی کے حقوق کی خاطر خاموش نہیں بیٹھیں گے کیونکہ پانی نا ہونے سے ہزاروں ایکڑ اراضی بنجر ہورہی ہے اور زراعت سے وابستہ گرین بیلٹ تباہی کے دہانے پہنچ چکا ہے لیکن بہت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ کھیرتھر کینال میں پانی قلت پر تا حال حکومتی سطح پر ہماری نمائندگی نا ہو سکے جو کہ المیہ ہے محکمہ ایری گیشن کی جانب سے بھی پانی کے معاملے پر کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیئے گئے ہیڈ اور ٹیل کی تمام شاخیں بنجر نظر آرہی ہیں شرکاء نے صوبائی وزیر سردار زادہ فیصل خان جمالی صوبائی وزیر آبپاشی میر صادق عمرانی سے مطالبہ کیا کہ وہ کھیرتھر کینال میں پانی کہ قلت کا فوری نوٹس لے کر سندھ حکومت سے رابطہ کر کے پانی کی فراہمی کو ممکن بنائیں جبکہ زمینداروں نے کہا کہ 4 جولائی کو گڑنگ کے مقام پر اپنے حق کے لیے دھرنا دینے کا بھی اعلان کیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں