کوئٹہ (این این آئی) محکمہ تعلیم بلوچستان نے صوبے کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں طلبہ کو جسمانی سزا دینے پر مکمل پابندی عائد کردی،خلاف ورزی کرنے والے اساتذہ، منتظمین اور دیگر ذمہ داران کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لانے کا بھی اعلان۔ڈائریکٹر ایجوکیشن (اسکولز) بلوچستان کی جانب سے تمام ضلعی تعلیمی افسران، نجی اسکولوں کے ڈائریکٹرز، پرنسپلز اور مالکان کے نام جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ بعض تعلیمی اداروں میں اب بھی جسمانی سزا اور طلبہ کی تذلیل جیسے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں، جو نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ بچوں کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت کے لیے نقصان دہ اور بچوں کے تحفظ اور معیاری تعلیم کے اصولوں کے منافی ہیں۔سرکلر میں کہا گیا ہے کہ حکومت بلوچستان کی بچوں کے تحفظ سے متعلق پالیسی، محکمہ تعلیم کی سابقہ ہدایات، بلوچستان چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2016، بلوچستان کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2014، آئین پاکستان کے آرٹیکل 25-اے اور اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق اطفال (UNCRC) کے تحت بلوچستان بھر کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں ہر قسم کی جسمانی سزا پر سختی سے پابندی برقرار ہے۔سرکلر کے مطابق جسمانی سزا میں طالب علم کو تھپڑ مارنا، ڈنڈے یا کسی بھی چیز سے مارنا، بال یا کان کھینچنا، دھکا دینا، لات مارنا، چٹکی کاٹنا، تکلیف دہ یا توہین آمیز حالت میں کھڑا کرنا یا بٹھانا، گالم گلوچ، تضحیک، دھمکیاں دینا یا ایسا کوئی بھی رویہ شامل ہے جو جسمانی یا نفسیاتی نقصان کا باعث بنے۔محکمہ تعلیم نے تمام اداروں کے سربراہان، ضلعی تعلیمی افسران، نجی اسکولوں کے مالکان، منتظمین اور تدریسی عملے کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی استاد یا ملازم کو طلبہ پر جسمانی سزا یا تذلیل آمیز سلوک کی اجازت نہ دی جائے، نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے مثبت، بچوں دوست اور عدم تشدد پر مبنی طریقہ کار اختیار کیا جائے، جسمانی سزا کی ہر شکایت کی فوری تحقیقات کرکے متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور ڈائریکٹوریٹ کو رپورٹ ارسال کی جائے، اساتذہ، والدین اور طلبہ کے لیے بچوں کے حقوق اور مثبت نظم و ضبط سے متعلق آگاہی سیشن منعقد کیے جائیں، جبکہ ہر اسکول میں شکایات کا رجسٹر بھی برقرار رکھا جائے تاکہ بچوں سے بدسلوکی یا جسمانی سزا سے متعلق شکایات کا اندراج اور ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔سرکلر میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کو سنگین بدعنوانی تصور کیا جائے گا اور ذمہ دار سرکاری ملازمین کے خلاف بلوچستان گورنمنٹ سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز سمیت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت محکمانہ کارروائی کی جائے گی، جبکہ نجی تعلیمی اداروں کے خلاف بلوچستان پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (رجسٹریشن، ریگولیشن اینڈ پروموشن) ایکٹ 2022 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

