سیوی(رپورٹر)پاکستان تحریکِ انصاف ضلع سیوی کے صدر ٬چیئرمین یونین کونسل مرغزانی، ملک محمد اقبال مرغزانی نے مالی سال 2025-26 میں بلوچستان انٹیگریٹڈ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پروگرام (BISDP) کے تحت ضلع و تحصیل سیوی کی مختلف یونین کونسلوں کے لیے جاری ترقیاتی اسکیمات میں یونین کونسل مرغزانی کو دانستہ طور پر نظر انداز کیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیوی تحصیل کی سب سے بڑی اور گنجان آباد یونین کونسل ہونے کے باوجود یو سی مرغزانی کو اس کے جائز ترقیاتی حق سے محروم رکھا گیا جبکہ من پسند علاقوں کو غیر معمولی ترجیح دے کر اسکیمات تقسیم کی گئیں، جو کھلے عام اندھیر نگری چوپٹ راج کی عکاسی کرتی ہیں اور شفافیت، انصاف اور میرٹ کے منافی ہیں انہوں نے بتایا کہ پوری یونین کونسل میں صرف مرغزانی کلاں کی ایک گلی کے لیے سڑک اور ڈرینیج کی معمولی اسکیم دی گئی، جبکہ بوستانزئی جدید، بوستانزئی قدیم، پیرک صافی، مزری اور شدنزئی جیسے بڑے دیہات مکمل طور پر نظر انداز کر دیے گئے انہوں نے کہا کہ گاؤں شدنزئی کی مرکزی سڑک تقریباً چالیس سال قبل تعمیر کی گئی تھی، جس کے بعد آج تک اس کی مرمت یا بحالی کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ اس وقت سڑک شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جبکہ گاؤں کی اندرونی گلیاں اور رابطہ سڑکیں بھی انتہائی خستہ حالی کا منظر پیش کر رہی ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے آثارِ قدیمہ کی شکل اختیار کر لی ہو۔ بارہا نشاندہی اور مطالبات کے باوجود متعلقہ حکام کی مجرمانہ غفلت باعثِ تشویش ہے۔ملک محمد اقبال مرغزانی نے کہا کہ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے ترقیاتی فنڈز پوری عوام کی امانت ہیں، کسی سیاسی جماعت، منتخب نمائندے یا بااثر شخصیت کی ذاتی جاگیر نہیں۔ وسائل کی تقسیم اگر پسند و ناپسند یا ذاتی مفادات کی بنیاد پر کی جائے تو یہ عوام کے ساتھ کھلی زیادتی ہے انہوں نے حکومت بلوچستان، کمشنر سیوی، ڈپٹی کمشنر سیوی اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ BISDP کے تحت جاری اسکیمات پر فوری نظرثانی کی جائے اور یونین کونسل مرغزانی کو اس کی آبادی، جغرافیائی وسعت اور حقیقی ضروریات کے مطابق اس کا جائز حصہ دیا جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس امتیازی سلوک کا فوری ازالہ نہ کیا گیا تو پاکستان تحریکِ انصاف ضلع سبی، یونین کونسل مرغزانی کے عوام کے ساتھ مل کر ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور احتجاج کرے گی۔

