علاقائی کشیدگی کے باوجود گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں کا تسلسل ملکی بحری معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ہے، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار، سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ علاقائی بحری کشیدگی اور عالمی تجارتی راستوں پر غیر یقینی صورتحال کے باوجود گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں کا بلا تعطل جاری رہنا پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی اور اسٹریٹجک کامیابی ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی پرچم بردار جہاز کا گوادر پورٹ پر لنگر انداز ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ گوادر بندرگاہ خطے میں اپنی اہمیت مسلسل مستحکم کر رہی ہے اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کا اس پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ سنگاپور سے آنے والے اس جہاز پر موجود 53 ہزار میٹرک ٹن سے زائد پرائم اسٹیل بلیٹس کو گوادر میں عارضی طور پر ذخیرہ کرنے کے بعد متحدہ عرب امارات کی الحمریہ پورٹ منتقل کیا جانا گوادر میں ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں کے فروغ کی عملی مثال ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں کا تسلسل پاکستان کی بندرگاہی صلاحیت، مؤثر انتظام اور جدید سہولیات کی عکاسی کرتا ہے گوادر کا منفرد جغرافیائی محل وقوع نہ صرف اسے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا مرکزی ستون بناتا ہے بلکہ اسے خطے کے ایک اہم متبادل تجارتی اور لاجسٹک مرکز کے طور پر بھی نمایاں کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی شپنگ لائنز کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس امر کی غماز ہے کہ گوادر ایک محفوظ، قابلِ اعتماد اور جدید بندرگاہ کے طور پر اپنی شناخت مضبوط بنا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے بندرگاہی انفراسٹرکچر کی بہتری، جدید کاروباری سہولیات کی فراہمی اور علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات مستقبل میں مزید سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا کہ گوادر پورٹ پر جاری ٹرانس شپمنٹ آپریشنز اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی بحری معیشت کو مستحکم بنانے اور علاقائی تجارت میں مؤثر کردار ادا کرنے کی سمت درست انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر سیکیورٹی، بنیادی ڈھانچے، کسٹمز، لاجسٹکس اور کاروباری سہولتوں کو مزید بہتر بنایا جائے تو گوادر نہ صرف سی پیک بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی تجارتی، ٹرانزٹ اور لاجسٹک مرکز بن سکتا ہے، جس سے قومی معیشت، روزگار، برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں