کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینیئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، مولانا محب اللہ، مولانا محمد ایوب، شیخ مولانا عبدالاحد محمد حسنی، مولانا سعید احمد، حافظ سراج الدین، مفتی محمد روزی خان بادیزئی، مولانا محمد شعیب جدون، رحیم الدین ایڈووکیٹ، مولانا محمد عارف شمشیر اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ منفی پروپیگنڈے بے بنیاد الزامات اور گمراہ کن بیانیے کے ذریعے قوم کی توجہ ملک کو درپیش حقیقی مسائل سے نہیں ہٹائی جاسکتی۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن نے جن قومی، آئینی، سیاسی اور عوامی مسائل کی نشاندہی کی ہے ان پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے مگر افسوس کہ ان مسائل کے حل کی کوشش کرنے کے بجائے بعض حلقے منفی پروپیگنڈے اور کردار کشی کی مہم میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کا مؤقف عوامی امنگوں کا ترجمان ہے جسے ملک کے باشعور عوام کی وسیع تائید حاصل ہوچکی ہے۔ ایسے میں چند مخصوص عناصر سے پریس کانفرنسیں کروا کر عوامی رائے کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ قوم محض پروپیگنڈے سے نہیں بلکہ حقائق، دلائل اور عملی کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ اگر کسی کو قائد جمعیت کے مؤقف سے اختلاف ہے تو وہ مدلل انداز میں اپنا نقطہ نظر پیش کرے ارباب اختیار اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے بجائے اپنی پالیسیوں اور طرزِ عمل کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لے۔انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علماء اسلام ہر سطح پر عوامی حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی قسم کے منفی پروپیگنڈے سے نہ اس کے مؤقف میں تبدیلی آئے گی اور نہ ہی عوام کا اعتماد متزلزل کیا جاسکے گا۔

