نصیرآباد ڈویژن زرعی پانی کی قلت ہزاروں زمینداروں اور کاشتکاروں کا دوسرے روز بھی سکھر بیراج پر دھرنا جاری

ڈیرہ مراد جمالی (این این آئی) نصیرآباد ڈویژن زرعی پانی کی قلت ہزاروں زمینداروں اور کاشتکاروں کا دوسرے روز بھی سکھر بیراج پر دھرنا جاری رہا وزیراعلیI بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر صوبائی وزیر آبپاشی میر صادق عمرانی کی سربراہی پر مشتمل دو وزراء سمیت تین رکنی کا دورہ سکھر ایریگشن سندھ کے حکام کی تفصیلی بریفنگ جبکہ وزیراعلی بلوچستان کی بھی کراچی آمد متوقع۔۔ تفصیلات کے مطابق نصیرآباد، جعفرآباد، اوستہ محمد اور صحبت پور میں زرعی پانی کی قلت اور بلوچستان کے حصے کا پانی سندھ میں روکنے اور چوری کرنے کے خلاف دوسرے روز بھی نصیرآباد ڈویژن کے ہزاروں زمینداروں اور کاشتکاروں کا سکھر بیراج پر دھرنا جاری رہا شدید گرمی کے باوجود زمین دار اور کاشتکار پانی کے حصول کیلئے ڈٹ گئے جبکہ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی زرعی پانی کی قلت پر صوبائی وزیر آبپاشی میر صادق عمرانی کی قیادت مین میر سلیم خان کھوسہ اور حاجی محمد خان لہڑی پر مشتمل کمیٹی قائم کردی جس نے سکھر کا دورہ کیا اور دھرنے مین بیٹھے نصیرآباد ڈویژن کے زمین داروں اور کاشتکاروں سے ملاقاتیں کیں بعد ازاں سکھر میں وفد کو محکمہ آبپاشی سندھ کے اعلی افسران نے زرعی پانی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور ان کو یقین دہانی کرائی گئی کہ ٓائندہ اڑتالیس گھنٹوں میں بلوچستان کو اسکے حصے کا پانی فراہم کردیا جاے گا تاہم دھرنے میں بیٹھے زمین دار اور کاشتکار یقین دہانی کو مسترد کرتے ہوئے زرعی پانی کی مکمل فراہمی تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے، جبکہ تینوں صوبائی وزرا ء سکھر سے کراچی کے لیے روانہ ہوگیا جہاں وہ آج صوبائی وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو سیکرٹری آبپاشی سندھ سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کرکے ارساء کی جانب سے طے کردہ پانی فراہمی کے فارمولے پر بات چیت کرینگے۔ذرائع کے مطابق وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی بھی کراچی جائیں گے جہاں وہ وزیراعلی سندھ سے ملاقات کرکے زرعی پانی کے مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کرینگے علاوہ ازیں محکمہ آبپاشی بلوچستان نے نصیرآباد ڈویژن، پٹ فیڈر کینال اور دیگر ذیلی نہروں میں نصب سات سو سے زائد غیر قانونی پائپ ہٹانے کے لیے گرینڈ اپریشن شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بھاری مشینری سائٹ پر منتقل کردی ہے آج سے غیر قانونی واٹر پائپ ہٹانے کے لیے آپرشن شروع کردیا جائے گا جس کے لیے مقامی پولیس اور ایف سی کی مدد بھی حاصل کر لی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں