کوئٹہ (رپورٹ۔امیدعلی گچکی)پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 15 کے مطابق ہر پاکستانی شہری کو ملک کے کسی بھی حصے سے دوسرے حصے میں آزادانہ نقل و حرکت کا حق حاصل ہے۔ کسی بھی صوبے سے کراچی آنے پر آئین میں کوئی پابندی موجود نہیں۔
لیکن حب، لسبیلہ اور وندر سے کراچی میں داخل ہونے والے راستوں پر قائم رینجرز، کوسٹ گارڈ، کسٹم اور پولیس کی چیک پوسٹوں پر بلوچستان سے آنے والے شہریوں کے ساتھ ایک الگ سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
اہم شکایات:
1. صحافیوں کی تذلیل: ایک مقامی صحافی کو بار گھنٹوں روک کر اس کی گاڑی کی ناجائز تلاشی لی گئی اور اس کے ساتھ بداخلاقی سے پیش آیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا صحافت کرنا جرم ہے؟
2. بزرگ اور بیمار شہری: 50 سے زائد چیک پوسٹوں سے گزر کر آنے والی مسافر بسوں اور ایک کلومیٹر کے فاصلے سے آنے والے لوکل مسافروں کو بھی ایک ایک گھنٹہ کھڑا رکھا جا رہا ہے۔ 60-70 سال کے بزرگ اور بیمار افراد کو تلاشی کے بہانے ذلیل کیا جا رہا ہے۔
3. *احترامِ انسانی کی پامالی: آئین کے آرٹیکل 4 اور 10A* شہریوں کو عزتِ نفس اور قانون کے مطابق سلوک کا حق دیتے ہیں۔ لیکن یہاں اس کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
قانونی سوال:
رینجرز کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ 1997 اور 23ویں آئینی ترمیم کے تحت سندھ میں امن و امان کے لیے اختیارات حاصل ہیں۔ اسی طرح *کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے تلاشی لی جا سکتی ہے۔
لیکن کسی بھی قانون میں یہ نہیں لکھا کہ “کسی خاص صوبے کے شہریوں کو نشانہ بنایا جائے” یا “عوام کو گھنٹوں تنگ کر کے ذلیل کیا جائے”۔
اگر قانون کے محافظ خود آئینِ پاکستان کو نہیں مانیں گے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے: کیا وہ قانون کے وفادار ہیں یا قانون شکن؟ اس کا فیصلہ ڈی جی رینجرز سندھ خود کریں یا پھر یہ فیصلہ پاکستان کی عوام پر چھوڑ دیں۔
عوامی مطالبہ:
ہم ڈی جی رینجرز سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ:
1. حب تا کراچی روٹ پر قائم چیک پوسٹوں پر غیر ضروری روک ٹوک اور تذلیل کا فوری نوٹس لیا جائے۔
2. بزرگوں، خواتین، بچوں اور مریضوں کے لیے باعزت اور جلد کلیئرنس کا نظام بنایا جائے۔
3. ان چیک پوسٹوں کو “اے ٹی ایم مشین” بنانے کے بجائے صرف سیکیورٹی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ حب اور لسبیلہ کے لوکل عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔
آئین سب کے لیے برابر ہے۔ امتیاز کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ صحافیون کی گاڈیون کی ناجائیر تلاشی سے اجتناب کرین یا رینجر صحافی ڈیوٹی پر صحافیون کی گاڈیون کو اسٹیکر فرہم کرین تاکہ ان کی شناخت ھوسکے انکو رینجر پولیس کسٹم کے اھلکار تنگ نہ کرین

