تربت (رپورٹر) مکران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انفارمیشن سیکرٹری عبدالمجید دشتی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سری کہن سے میری، کلگ اور گھنہ چیک پوسٹ تک سڑک کی حالت انتہائی خستہ اور ناقابلِ استعمال ہو چکی ہے، سری کہن اور بگ کے درمیان ندی پر قائم کازوے بھی بوسیدہ ہونے کے باعث کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم شاہراہ کی فوری مرمت، تعمیرِ نو اور تمام پلوں کی بحالی حکومتِ بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے تاکہ عوام کو محفوظ سفری سہولت میسر آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ سری کہن، بگ، میری، کلگ، سنگ قلات، ڈگاری کہن، پیری کہن، شے تگر اور گھنہ چیک پوسٹ تک کے علاقوں میں شدید گرمی کے پیشِ نظر مسافروں، خواتین، بچوں، بزرگوں اور طلبہ و طالبات کے لیے ہر اہم اسٹاپ پر سایہ دار شیڈز تعمیر کیے جائیں کیونکہ تحصیل تربت ملک کے گرم ترین علاقوں میں شمار ہوتی ہے اور عوام شدید موسمی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ عبدالمجید دشتی ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس پورے روٹ پر عوام کو سفری سہولتوں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر دو گرین بسیں اس روٹ کے لیے مختص کی جائیں تاکہ عام شہری، مزدور، خواتین اور بزرگ باعزت اور محفوظ سفری سہولت حاصل کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوسک سے گھنہ چیک پوسٹ تک روزانہ سینکڑوں طلبہ و طالبات تربت کے اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے سفر کرتے ہیں، لیکن اسکول و کالج بسوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی طلبہ خصوصاً غریب خاندانوں کے بچے تعلیم جاری رکھنے سے محروم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس روٹ کے لیے دو خصوصی اسکول و کالج بسیں فوری طور پر فراہم کی جائیں تاکہ نوجوان نسل کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے صدرِ پاکستان، وزیرِاعظم پاکستان، وفاقی وزیرِ تعلیم، وفاقی وزیر مواصلات و ٹرانسپورٹ، وزیرِاعلیٰ بلوچستان، گورنر بلوچستان، صوبائی وزیرِ تعلیم، صوبائی وزیر مواصلات و ٹرانسپورٹ، علاقے کے وزراء میر ظہور احمد بلیدی، میر اصغر علی رند، معتبر برکت علی رند،مشیر برائے کھیل و ثقافت محترمہ مینا مجید، اراکینِ قومی اسمبلی پھلین بلوچ اور ملک شاہ گورگیج، رکنِ صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے پُرزور مطالبہ کیا کہ سری کہن سے گھنہ چیک پوسٹ تک سڑک اور تمام پلوں کی فوری مرمت و بحالی کی جائے۔ دو گرین بسیں فراہم کی جائیں۔ دو اسکول و کالج بسیں فوری طور پر چلائی جائیں۔ تمام اہم مقامات پر سایہ دار شیڈز تعمیر کیے جائیں۔ انہوں نے کمشنر مکران، ڈپٹی کمشنر کیچ، میئر تربت اور ضلعی چیئرمین میر ہوتمان بلوچ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس اہم عوامی مسئلے کا نوٹس لیں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کرکے عوام کو درپیش مشکلات کے مستقل حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔ عبدالمجید دشتی ایڈووکیٹ نے خبردار کیا کہ اگر عوام کے ان جائز، آئینی اور بنیادی مطالبات پر فوری عمل درآمد نہ کیا گیا تو علاقے کے عوام اپنے جمہوری اور آئینی حق کے مطابق بھرپور اور پُرامن احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام اور حکومت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ اگست میں اسکول، کالج اور دیگر تعلیمی ادارے کھلنے والے ہیں، لہٰذا دو گرین بسیں اور دو اسکول و کالج بسیں فوری طور پر فراہم کی جائیں تاکہ طلبہ و طالبات کا قیمتی تعلیمی سال متاثر نہ ہو۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تربت بلوچستان کا آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا شہر ہے، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ تربت اور اس کے نواحی علاقوں کے عوام کو بھی وہ تمام بنیادی سہولیات فراہم کرے جو ایک ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے کا بنیادی تقاضا ہیں۔

