ہیبئی: پاکستان کے شہر گوادر سے تعلق رکھنے والے 12 رکنی وفد نے 19 جولائی کو چین کے صوبہ ہیبئی کے کاؤفیڈیان فری ٹریڈ زون کا پانچ روزہ دورہ مکمل کر لیا۔ اس دوران دونوں فریقین نے بندرگاہوں، لاجسٹکس، صنعتی پارکس اور تکنیکی تربیت کے شعبوں میں مزید گہرے تعاون پر اتفاق کیا۔گوادر پرو کے مطابق وفد میں گوادر پورٹ اتھارٹی، بلوچستان انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ بورڈ، محکمہ ماہی گیری اور مقامی ترقیاتی ادارے کے حکام شامل تھے۔ دورے کے دوران وفد نے کاؤفیڈیان کی گہرے پانی والی بندرگاہ کی سہولیات، بانڈڈ گوداموں، سرحد پار ای کامرس مراکز اور صنعتی پارکس کا دورہ کیا۔ وفد نے شہر کے پیشہ ورانہ تعلیمی کیمپس اور نارتھ چائنا یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ مشترکہ منصوبے کا بھی جائزہ لیا۔گوادر پرو کے مطابق کاؤفیڈیان میں ہونے والے مذاکرات میں تعاون کے پانچ اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی، جن میں بندرگاہ سے بندرگاہ تک بحری رابطہ، فری ٹریڈ زون کا انتظام، صنعتی پارکس کی ترقی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تبادلے کے پروگرام، اور دونوں فریقوں کے درمیان مستقل رابطہ کاری کا نظام شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق کاؤفیڈیان اقتصادی زون کے سینئر عہدیدار فینگ لئی نے فری ٹریڈ زون بیورو کے ڈائریکٹر سن کونگ گوانگ اور نائب ڈائریکٹر چینگ پینگ کے ہمراہ وفد کی میزبانی کی۔سن کونگ گوانگ نے بریفنگ کے دوران وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ دورہ گوادر کے سی پیک میں اہم گیٹ وے کے کردار کو کاؤفیڈیان کی صنعتی صلاحیتوں سے جوڑنے کی جانب ایک عملی قدم ہے۔چینی حکام نے زون کی گہرے پانی والی بندرگاہ کے فوائد اور پالیسی مراعات سے آگاہ کیا، جبکہ پاکستانی حکام نے گوادر پورٹ کی موجودہ سرگرمیوں اور توسیعی منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔دورے کے شیڈول میں بلک کارگو ٹرمینلز، سپلائی چین کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے علاوہ سیاحتی مقامات، جن میں دوما امیوزمنٹ پارک اور لین یو بے شامل ہیں، کا دورہ بھی شامل تھا۔ وفد بیجنگ کیپٹل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے اسلام آباد روانہ ہوگیا۔دونوں فریقین نے باقاعدہ رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔پاکستانی حکام نے اس دورے کوتعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس اور معلومات کے تبادلے کے طریقہ کار کے ذریعے تعاون کے اس فریم ورک کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

