کوئٹہ: پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صوبائی سینئر نائب صدر اور معروف قبائلی شخصیت سید صادق آغا نے کوئٹہ میں پانی کے شدید بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی ادارہ واسا اربوں روپے کے وسائل خرچ کرنے کے باوجود شہریوں کو صاف اور وافر مقدار میں پانی فراہم کرنے میں ناکام ہوچکا ہے، جس کے باعث عوام اپنی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے مہنگے داموں پرائیویٹ پانی ٹینکرز خریدنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ عوام کو پانی فراہم کرنے والے پرائیویٹ ٹینکرز کو بھی بعض ٹریفک پولیس اہلکار بلاجواز تنگ کرتے ہیں، جس کے باعث ٹینکر مالکان کو ہڑتال جیسے اقدامات پر مجبور ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پانی انسان کی بنیادی ضرورت اور زندگی کا لازمی جزو ہے، اس کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ناقابل قبول ہے۔ سید صادق آغا نے کہا کہ اگر سرکاری ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر پا رہے تو کم از کم نجی شعبے کے ذریعے عوام کو پانی کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا نہ کی جائیں۔ عوام پہلے ہی شدید گرمی، پانی کی قلت اور مہنگائی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں پانی کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنا عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے پانی ٹینکرز ایسوسی ایشن کے جائز مطالبات تسلیم کیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ مستقبل میں ایسے حالات دوبارہ پیدا نہ ہوں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام، صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں کو پابند بنایا جائے کہ وہ پانی ٹینکرز مالکان اور شہریوں کے ساتھ مہذب اور قانون کے مطابق رویہ اختیار کریں تاکہ شہریوں کو پانی کی فراہمی بلا تعطل جاری رہ سکے۔سید صادق آغا نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ کوئٹہ میں پانی کے دیرینہ بحران کے مستقل حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرے، واسا کی کارکردگی کا مؤثر جائزہ لیا جائے اور شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کو اولین ترجیح بنایا جائے تاکہ عوام کو روزانہ کی بنیاد پر درپیش مشکلات سے نجات مل سکے۔

