کوئٹہ: مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے انجمن تاجران رجسٹرڈ کیچ کی جانب سے پاک ایران بارڈر کو فوری طور پر کھولنے کے مطالبے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارڈر کی طویل بندش نے نہ صرف ضلع کیچ بلکہ پورے مکران ڈویژن اور بلوچستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سرحدی تجارت سے وابستہ ہزاروں خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور کاروباری سرگرمیاں تقریباً جمود کا شکار ہو چکی ہیں۔مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاک۔ایران سرحد بلوچستان کے عوام کے لیے محض ایک گزرگاہ نہیں بلکہ لاکھوں افراد کے روزگار، کاروبار اور معاشی استحکام کا اہم ذریعہ ہے۔ بارڈر کی مسلسل بندش کے باعث تاجروں، مزدوروں، ٹرانسپورٹرز، چھوٹے کاروباری افراد اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں سمیت معاشرے کے تمام طبقات شدید متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بازاروں میں کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں کمی، اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں رکاوٹ اور مقامی تجارت کے زوال نے بلوچستان کے معاشی ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے۔ اگر اس صورتحال کا فوری حل نہ نکالا گیا تو بے روزگاری، غربت اور معاشی بحران میں مزید اضافہ ہوگا، جس کے اثرات پورے صوبے پر مرتب ہوں گے۔مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے وفاقی حکومت، حکومتِ بلوچستان، وزارتِ داخلہ، متعلقہ سیکیورٹی اداروں اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد، مقامی معیشت اور سرحدی علاقوں کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاک۔ایران بارڈر کو فوری طور پر کھولا جائے اور سرحدی تجارت کو باقاعدہ، محفوظ اور منظم انداز میں بحال کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ باعزت روزگار میسر آ سکے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان اس اہم عوامی مسئلے پر انجمن تاجران رجسٹرڈ کیچ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور اس جائز مطالبے کی ہر سطح پر بھرپور حمایت جاری رکھے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ تاجروں اور عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے ہوئے ایسے دیرپا اقدامات کرے جن سے بلوچستان کی معاشی سرگرمیاں بحال ہوں، سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور عوام کو معاشی استحکام حاصل ہو۔

