کوئٹہ: ایران کے قونصل جنرل محمد کریمی تودیشکی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کو اعلیٰ سطح پر مؤثر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایران، پاکستان کے ساتھ تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور تاجروں کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روزچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران اور ممبران کے ساتھ منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی نے ایران کے قونصل جنرل کی توجہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت میں درپیش مسائل کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سرحدی گزرگاہوں پر جدید اور مؤثر سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گبدرمدان بارڈر گیٹ کو 24 گھنٹے کھلا رکھا جائے تاکہ درآمدات و برآمدات کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہ سکے اور تاجروں کو غیر ضروری تاخیر اور مالی نقصانات سے بچایا جا سکے۔حاجی محمد ایوب مریانی نے مزید کہا کہ 28 اور 29 جولائی کو اسلام آباد میں ملک بھر کے تاجروں کا ایک اہم سیمینار منعقد ہو رہا ہے، جس میں کاروباری برادری کو درپیش مسائل، سرحدی تجارت، کسٹمز نظام اور تجارتی پالیسیوں پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گبدرمدان بارڈر پر روزانہ سینکڑوں گاڑیوں کی آمدورفت کے باعث شدید رش رہتا ہے، جبکہ ڈرائیوروں کے لیے بنیادی سہولیات کا فقدان اور کسٹمز عملے کی کمی بھی تجارت میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ ان مسائل کے فوری حل کے لیے دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے قونصل جنرل محمد کریمی تودیشکی نے کہا کہ ایران، بلوچستان کی کاروباری برادری کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھتا ہے اور انہیں حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ گبدرمدان بارڈر سمیت دیگر تجارتی گزرگاہوں پر سہولیات کی بہتری، کسٹمز نظام میں آسانیاں پیدا کرنے اور تجارتی عمل کو تیز بنانے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں دنیا بھر میں تجارت جدید تقاضوں کے مطابق تیزی سے ترقی کر رہی ہے لہٰذا پاکستان اور ایران کو بھی باہمی تعاون، جدید انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل سہولیات اور مؤثر پالیسیوں کے ذریعے دوطرفہ تجارت کو فروغ دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے سے نہ صرف سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔اجلاس کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، سرحدی تجارت میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے اور تاجروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے باہمی رابطوں اور تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

