حکومتِ بلوچستان خواتین کے حقوق کے تحفظ، ان کے بااختیار بنانے اور محفوظ معاشرے کی تشکیل کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کر رہی ہے: سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ سائرہ عطا

کوئٹہ: محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ حکومتِ بلوچستان، بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS)، اسٹرینتھننگ پارٹیسپیٹری آرگنائزیشن (SPO) اور اقوام متحدہ کے ادارے UNFPA کے اشتراک سے “پروونشل میڈیا فیلوشپ پروگرام” کی افتتاحی تقریب بیوٹمز کے پنک ہال میں منعقد ہوئی۔اس موقع پر سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ سائرہ عطا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ صنفی بنیاد پر تشدد (GBV)، کم عمری کی شادی اور خواتین و بچوں سے متعلق حساس معاملات کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان خواتین کے حقوق کے تحفظ، ان کے بااختیار بنانے اور محفوظ معاشرے کی تشکیل کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میڈیا فیلوشپ پروگرام کے ذریعے صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا، جس سے وہ حقائق پر مبنی، متوازن اور حساس رپورٹنگ کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کرنے میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر بیوٹمز پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ نے کہا کہ جامعات صرف تعلیم تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی بہتری اور قومی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیوٹمز نوجوان صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو جدید تحقیق، تربیت اور عملی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ نہ صرف معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دیتی ہے بلکہ خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ، سماجی انصاف اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے اس مشترکہ اقدام کو بلوچستان میں صحافت کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے پروگرام کے شرکاء کو بتایا کہ بیوٹمز میں بی ایس فرانزک سائنسز اور بی ایس پبلک ہیلتھ کے اہم شعبے بھی شروع کردئیے گئے ہیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈایریکٹر پبلک ریلیشنز سعید شاہوانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میڈیا کے کردار کے بارے میں شرکاء کو تفصیل سے آگاہ کیا تقریب میں سرکاری حکام، میڈیا نمائندوں، اساتذہ، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں