کوئٹہ: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں صوبائی حکومت نے غیر رسمی تعلیم کے وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں طے پایا کہ 9 تا 16 سال کے 18 لاکھ بچے جو مختلف وجوہات کی بنا پر رسمی تعلیمی نظام سے محروم رہ گئے، انہیں دوبارہ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائینگے۔
اس موقع پر چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اب سے مرکزی توجہ 9 سی16 سال عمر کے بچوں کے پڑھائی پر مرکوز کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسمی تعلیم میں حکومتی اقدامات 5 سے 9 سال کے بچوں کے لیے مرکوز تھے، جس کے قابلِ ستائش نتائج سامنے آئے، تاہم اس مرحلے میں 9 تا 16 سال کے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے صوبائی حکومت ایک اہم منصوبہ شروع کرنے جا رہا ہے۔
اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ محکمہ سماجی بہبود کی زیر نگرانی چلایا جائے گا ۔ مالی سال 2026?27 میں اسکیم کے لیے کل 8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، اور منصوبہ پانچ سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 2 لاکھ بچوں کو تعلیم دلائی جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت 9 تا 16 سال کے بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ وہ بنیادی خواندگی حاصل کر سکیں اور بعد ازاں باقاعدہ اسکولنگ یا پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی حاصل کریں۔
چیف سیکرٹری نے ہدایت دی کہ دو ہفتوں کے اندر اس منصوبے کا پی سی ون (PC1) تیار کیا جائے، تاکہ ستمبر میں باقاعدہ آغاز ممکن بن سکے۔اس منصوبے کو عوام تک پہنچانے کے لیے ہر ضلع، ہر تحصیل اور ہر گاو?ں میں آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت دی تاکہ وہ بچے جو اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، آسانی سے رجسٹر ہو سکیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ محروم بچے جب تعلیم حاصل کریں گے تو وہ قومی ترقی میں مؤثر حصہ ڈال سکیں گے، غربت میں کمی اور سماجی شمولیت میں اضافہ ہوگا۔
صوبائی محکمہ سماجی بہبود کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مختص فنڈز کی شفاف تقسیم، تربیت یافتہ اساتذہ کی فراہمی، نصاب کی مطابقت (مقامی زبانوں بشمول) اور ڈیٹا بیس تیار کرنے پر فوری کام شروع کریں۔ اجلاس میں غیر رسمی تعلیم کا اپنا ایکٹ بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات ذاہد سلیم، سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی سید فیصل احمد، سیکرٹری سماجی بہبود عصمت اللہ قریش، سیکرٹری سکولز لعل جان جعفر و دیگر بھی موجود تھی

