کوئٹہ : یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی زیر صدارت مین کیمپس میں اجلاس منعقد ہوا ۔یونیورسٹی کے اسٹریٹجک پلان کی روشنی میں تعلیمی معیار اورادارے کے قومی ساکھ کو مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد یونیورسٹی کے نصاب کو قومی ترقیاتی ترجیحات اور مارکیٹ کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ڈھالنا تھا تاکہ طلبہ کی عملی مہارتوں میں اضافہ کرکے ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کئے جاسکیں۔
اجلاس میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد، فیکلٹی آف لٹریچر اینڈ لینگوئجز کے ڈین ڈاکٹر عبدالصبور (تمغہ امتیاز)،فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر محمد طاہر حکیم، فیکلٹی آف لاء کے ڈین ڈاکٹر مظفر حسین، رجسٹرار گنگزار بلوچ، ڈائریکٹر فنانس شاہ بیک سید، کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر عبدالماجد ناصر، ڈائریکٹر اورک ڈاکٹر محمد یاسین اور تمام تعلیمی و انتظامی شعبہ جات کے سربراہان نے شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے فیکلٹی اور انتظامی سربراہان پر زور دیا کہ وہ قومی و بین الاقوامی سطح پر ریسرچ پروجیکٹس کے حصول، اعلی معیار کے تحقیقی مقالوں کی اشاعت اور ایم فل و پی ایچ ڈی پروگراموں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کریں۔ انہوں نے طلبہ کے داخلوں میں اضافے، تعلیمی پروگراموں کی باقاعدہ ایکریڈیٹیشن اور تربت یونیورسٹی کے ریسرچ جرنلز کو ہائر ایجوکیشن کمیشن سے منظوری کرانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
یونیورسٹی میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وائس چانسلر نے آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن فریم ورک کے نفاذ کی ضرورت پر بھی زوردیا تاکہ تربت یونیورسٹی کے گریجویٹس قومی اور عالمی سطح پر اپنی شناخت بناسکیں۔ اجلاس کے دوران شرکاء نے ایچ ای سی کی گائیڈ لائنز کے مطابق جدید تعلیمی پروگرام متعارف کرانے کے لیے اہم تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں سپرنگ2027 کے داخلوں کی تیاریوں، یونیورسٹی کے ایڈمیشن سسٹم اور تعلیمی وانتظامی سرگرمیوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کے عمل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر کیمپس میں بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور تدریس و تحقیق کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے مشترکہ عزم کااعادہ کیاگیا۔

