حکومت کی غیر سنجیدہ، ناکام اور عوام دشمن پالیسیوں نے بلوچستان کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے،سینیٹر مولانا عبدالواسع

کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی صوبائی مجلسِ عاملہ کا اہم اجلاس صوبائی سیکرٹریٹ، جناح ٹاؤن، کوئٹہ میں صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی، امن و امان، معاشی، تنظیمی اور عوامی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں صوبے میں روز بروز ابتر ہوتی ہوئی امن و امان کی صورتحال، تاجروں، صنعت کاروں، ٹرانسپورٹرز، کاشتکاروں اور سرحدی تجارت سے وابستہ لاکھوں خاندانوں کو درپیش سنگین معاشی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس نے قرار دیا کہ حکومت کی غیر سنجیدہ، ناکام اور عوام دشمن پالیسیوں نے بلوچستان کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔
بازار ویران، کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار، سرمایہ کاری ختم، صنعت و تجارت زوال پذیر اور ہزاروں چھوٹے بڑے تاجر دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ ٹرانسپورٹرز کو روزانہ کروڑوں روپے کے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
اجلاس نے اس امر پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ قومی شاہراہوں پر امن و امان کی بدترین صورتحال کے باعث تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو ناقابلِ تلافی مالی نقصانات کا سامنا ہے۔ مال بردار گاڑیوں اور مسافر کوچز کو نذرِ آتش کیے جانے کے پے در پے واقعات کے نتیجے میں اربوں روپے مالیت کی گاڑیاں، تجارتی سامان اور قومی سرمایہ تباہ ہو چکا ہے۔
ان واقعات نے نہ صرف تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے بلکہ صوبے کی تجارتی سرگرمیوں، سپلائی چین اور معاشی استحکام کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔اجلاس نے بارڈر کی مسلسل بندش اور غیر مؤثر بارڈر پالیسی کو بلوچستان کی معیشت پر کاری ضرب قرار دیتے ہوئے کہا کہ چمن سمیت تمام سرحدی گزرگاہوں پر عائد پابندیوں نے بارڈر سے وابستہ لاکھوں افراد سے روزگار کا واحد ذریعہ چھین لیا ہے۔
ہزاروں مزدور، ڈرائیور، کلیئرنگ ایجنٹس، لوڈر، دکاندار اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کش فاقہ کشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اجلاس نے قرار دیا کہ حکومت نے لاکھوں خاندانوں کے رزق پر عملی طور پر ڈاکہ ڈالا ہے اور عوام کو بے روزگاری، غربت اور معاشی تباہی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔اجلاس نے حکومت کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کے بجائے طاقت، جبر، دفعہ 144 کے مسلسل نفاذ، شاہراہوں کی بندش اور کرفیو نما اقدامات کے ذریعے حکمرانی کرنے کے طرزِ عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ موجودہ حکومت عوامی اعتماد کھو چکی ہے اور اپنی ناکامیوں کو طاقت کے ذریعے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔
جبر اور خوف کے سائے میں نہ معیشت بحال ہو سکتی ہے، نہ امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی عوامی اعتماد حاصل کیا جا سکتا ہے۔اجلاس نے کہا کہ بلوچستان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین سیاسی، انتظامی، معاشی اور امن و امان کے بحران سے گزر رہا ہے۔ عوام شدید اضطراب، خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، کاروبار بند، روزگار کے تمام راستے مسدود اور شہری زندگی مفلوج ہو چکی ہے۔
صوبے کے متعدد علاقے عملاً نو گو ایریاز میں تبدیل ہو چکے ہیں، جبکہ حکومتی رٹ کمزور پڑ چکی ہے اور شہریوں کو جان و مال کے تحفظ کا بنیادی آئینی حق بھی میسر نہیں۔اجلاس نے واضح کیا کہ عوامی مینڈیٹ چرانا شاید آسان ہو، مگر عوامی اعتماد اور تائید کے بغیر حکومتیں نہیں چل سکتیں۔ بلوچستان کے عوام نے موجودہ حکمرانی کو مسترد کر دیا ہے اور مصنوعی سیاسی بندوبست عوامی مسائل کے حل میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے۔
اجلاس میں جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے تنظیمی امور، ضلعی تنظیموں کی کارکردگی اور آئندہ تنظیمی سرگرمیوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں متعدد اہم تنظیمی فیصلے کیے گئے اور صوبے بھر میں جماعتی ڈھانچے کو مزید فعال، منظم اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔اجلاس نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی فوری بحالی، قومی شاہراہوں کو محفوظ بنانے، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو مکمل تحفظ فراہم کرنے، نذرِ آتش کی جانے والی گاڑیوں اور تجارتی نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا کرنے، پاک۔
افغان سرحدی گزرگاہوں کو بلاجواز پابندیوں سے آزاد کر کے تجارت اور روزگار کو بحال کرنے اور عوام کو معاشی بدحالی سے نجات دلانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں۔اجلاس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جمعیت علمائ اسلام بلوچستان صوبے کے عوام کے آئینی، جمہوری، سیاسی اور معاشی حقوق کے تحفظ، حقیقی عوامی مینڈیٹ کی بحالی، امن کے قیام، تجارت کی بحالی، سرحدی راستوں کی فوری بحالی اور بلوچستان کو درپیش بحرانوں کے حل کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی صورت عوام کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں