کوئٹہ : سیکرٹری محنت و افرادی قوت بلو چستان صالح محمدناصر نے کہا ہے کہ ہنر مند افرادی قوت کے فروغ، صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے حکومت، نجی شعبے اور تربیتی اداروں کے درمیان مضبوط روابط ناگزیر ہیں، گزشتہ روزپبلک اینڈ پرا ئیویٹ سیکٹر میں با ہمی ہم آہنگی ،بلوچستان میں ہنر مند افرادی قوت کی تیاری، صنعتی ترقی، روزگار کے نئے مواقع اور تکنیکی تعلیم کے فروغ سے متعلق ایک اہم مشاورتی اجلاس ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ بلو چستان میں منعقد ہوا جس میں چیمبر آف کامرس کے عہدیداران و ممبران ، نیوٹیک، بی ٹیوٹا، جی آئی زیڈ، بیورو آف امیگریشن اور نجی شعبے کے نمائندوں نے امر پر زور دیا گیا کہ صنعتوں کی ضروریات کے مطابق تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی، اداروں کے درمیان موثر رابطہ اور ون ونڈو سہولت کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیمبر آف کامرس کے نا ئب صدرانجینئر میروائس خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، تاہم ان وسائل سے بھرپور استفادہ اسی وقت ممکن ہے جب حکومت اور متعلقہ ادارے سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں۔انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں مقامی ضروریات اور صنعتوں کی طلب کے مطابق اسکل میپنگ کی جائے تاکہ نوجوانوں کو انہی شعبوں میں تربیت دی جا سکے جہاں روزگار کے مواقع موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کے لیے بھی تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا یہ پروگرام مختلف اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔ چیمبر آف کامرس کی قائمہ کمیٹی برائے ایس ایم ای کے چئرمین زین العابدین خلجی نے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ نجی اور سرکاری شعبے کے درمیان موثر تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کاروباری حضرات اور سرمایہ کاروں کے لیے ون ونڈو سہولت فراہم کی جائے تاکہ سرمایہ کاری کے عمل میں آسانی پیدا ہو۔انہوں نے کہا کہ ہنر مند افرادی قوت کے بغیر بلوچستان کی صنعتی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں، اس لیے صنعتوں اور تربیتی اداروں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنا ہوں گے۔سیکرٹری محنت و افرادی قوت بلو چستان صالح محمدناصر نے کہا کہ آج وزیر اعلیٰ بلو چستان کی زیر صدارت کو ئٹہ میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی منعقد ہواانہوں نے کہا کہ ایک مشترکہ یونٹ (کامن یونٹ)کے قیام کے لیے ہم نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو سفارشات ارسال کر دی گئی ہیں۔
صوبے میں مجموعی طور پر تقریبا 127تکنیکی ادارے ، کا لجز و دیگر فعال ہیں جبکہ بلوچستان میں اس وقت 34مختلف شعبوں میں تکنیکی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول اور کالج سے باہر رہ جانے والے نوجوانوں کو ہنر سکھا کر نہ صرف انہیں باعزت روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے بلکہ صوبے کی معیشت کو بھی مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کا بنیادی کردار سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ سرمایہ کاری کریں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ تمام متعلقہ اداروں پر مشتمل کوارڈینیشن کمیٹی کے قیام کے لیے جلد اقدامات کیے جائیں گے اور ون ونڈو آپریشن کی تجویز پر بھی عملی پیش رفت کی جائے گی۔سیکرٹری محنت نے کہا کہ ہر سال تقریبا 2ارب 40 کروڑ روپے خرچ کیے جاتے ہیں اس کے باوجود ایک ہزار سے بھی کم افراد معیاری تربیت حاصل کر پاتے ہیں جو نظام میں بہتری کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے نوجوانوں کو خود بھی ہنر سیکھنے پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہی باعزت روزگار کا بہترین ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی اسکل میپنگ کے مطابق مائننگ، صنعت، زراعت اور گلہ بانی سمیت متعدد شعبوں میں لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے مواقع موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی تکنیکی اسناد اور ڈگریاں بین الاقوامی سطح پر مکمل طور پر قابل قبول نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ متعلقہ عالمی اداروں کے ساتھ رجسٹریشن کا فقدان ہے اگر سرٹیفکیشن اور رجسٹریشن کے نظام کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے تو بلوچستان کے نوجوان دنیا بھر میں بہتر روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل نیوٹیک حسین بخش مگسی نے کہا کہ نیوٹیک مقامی اور بیرون ملکی سطح پر سکلڈ لیبر کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کر رہا ہے نیوٹیک نے 2024میں جدید تقاضوں کے مطابق اپنا نصاب اپ ڈیٹ کر دیا ہے تاہم تمام تکنیکی اداروں کو چاہیے کہ وہ چیمبر آف کامرس اور صنعتی شعبے کے ساتھ مستقل رابطے میں رہیں تاکہ تربیت حقیقی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہو۔
حسین بخش مگسی نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک کوارڈینیشن کمیٹی تشکیل دی جائے گی تاکہ اداروں کے درمیان رابطوں کے فقدان کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے تاہم اس مقصد کے لیے وزارت تجارت اور دیگر متعلقہ اداروں سے تعاون حاصل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف بیرون ملک روزگار پر توجہ دینے کے بجائے مقامی تکنیکی اداروں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
ان کے مطابق بی ٹیوٹا کے ساتھ ایک ہزار نوجوانوں کی تربیت کا معاہدہ کیا جا چکا ہے تاہم بعض اداروں میں تربیت کے معیار میں کمی کے باعث امیدواروں کو براہ راست اسسمنٹ کے مرحلے سے گزارنا پڑتا ہے۔نیوٹیک کے نمائندے مقبول احمد نے کہا کہ ادارہ ملک میں صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس کا بنیادی مقصد صنعتوں کی ضروریات کو سمجھنا اور چیمبر سمیت متعلقہ اداروں سے تجاویز حاصل کرنا ہے تاکہ مستقبل کی تربیتی پالیسی کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق بنایا جا سکے۔
جی آئی زیڈ کے نمائندے شبیر احمد نے کہا کہ چیمبرز، تکنیکی اداروں اور حکومتی محکموں کے درمیان رابطوں کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اداروں کے درمیان مثر روابط قائم کیے بغیر ہنر مندی کے شعبے میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے محمد احمد نے شرکا کو بیرون ملک روزگار، رجسٹریشن، مہارتوں کی تصدیق اور افرادی قوت کی برآمد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی

