کوئٹہ : بلوچستان کے ممتاز ٹرانسپورٹرز اور ٹرانسپورٹ تنظیموں کے رہنماؤں نے مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کی جانب سے 7 اور 8 اگست کو دی گئی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاجر برادری کے جائز مطالبات کی بھرپور تائید کرتے ہیں اور اس مشکل وقت میں انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ تاجروں کے مسائل فوری طور پر حل کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے کاروباری سرگرمیاں مزید متاثر ہوں۔یہ اعلان ممتاز ٹرانسپورٹرز میر حاجی حکمت لہڑی، وحید خان کاکڑ، میر حاجی دولت لہڑی، آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کے صدر حاجی حبیب اللہ خان بادیزئی، خیبر پختونخوا بس یونین کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ظاہر شاہ کاکڑ، وزیر خان کاکڑ، آل بلوچستان بس یونین کے صدر عبدالمتین اور دیگر رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کیا۔رہنماؤں نے کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے تاجر برادری کے لیے مبینہ طور پر پیدا کیے جانے والے مسائل اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کو بلاجواز ہراساں کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کا روزگار ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، اس لیے تاجر برادری کو درپیش مشکلات کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ کے شعبے پر بھی پڑتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ تاجروں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنے، مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالے اور ایسے اقدامات سے اجتناب کرے جن سے شہر کا کاروباری نظام متاثر ہو۔ رہنماؤں نے کہا کہ اگر تاجروں کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک مزید وسعت اختیار کر سکتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ٹرانسپورٹر رہنماؤں نے بلوچستان بھر کے ٹرانسپورٹرز، بس مالکان، ویگن مالکان، مزدا مالکان اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ تمام افراد سے اپیل کی کہ وہ 7 اور 8 اگست کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کریں اور تاجر برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

