ملک میں سیلاب ، طوفانی بارشوں سے 126 اموات، سینکڑوں زخمی، موسمی آفات سے نمٹنے کے نظام پر نئے سوالات کھڑے ہو گئے، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ: چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں، سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات نے ایک بار پھر قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی نظام کی استعداد اور تیاری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔انہوں نے اپنے خصوصی بیان میں کہا کہ 26 جون سے یکم اگست تک بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں 126 افراد جاں بحق جبکہ 404 زخمی ہوئے، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کے لیے ایک بڑے انسانی اور معاشی چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔
سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ شدید بارشوں، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ صرف ہنگامی اور عارضی امدادی کارروائیاں اس مسئلے کا حل نہیں ہیں۔
شہری منصوبہ بندی، نکاسی آب کے مؤثر نظام، غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام، بروقت وارننگ سسٹم اور مقامی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی صلاحیت میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اگر موسمیاتی خطرات کے پیش نظر طویل المدتی حکمت عملی اختیار نہ کر سکیں تو آئندہ برسوں میں جانی و مالی نقصانات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے قیام کا مقصد ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، جدید مشینری اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی تھا، تاہم ہر بڑے بحران کے دوران ان اداروں کی محدود استعداد اور کمزور تیاری نمایاں ہو جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث قومی معیشت شدید متاثر ہوتی ہے، جبکہ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آنے سے زرعی شعبے کو بھی بھاری نقصان پہنچتا ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیلاب اور بارشوں سے جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کو بلا تاخیر امدادی رقوم فراہم کی جائیں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کو جدید ٹیکنالوجی، مشینری اور مؤثر تربیت سے لیس کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں