پسنی (گوادر پوائنٹ/پریس ریلیز): پسنی فش ہاربر ایمپلائز یونین نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پسنی فش ہاربر اتھارٹی کے ملازمین، پینشنرز اور مرحوم ملازمین کے لواحقین کو مئی 2026 سے جولائی 2026 تک کی واجب الادا تنخواہوں اور پینشن کی فوری ادائیگی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
یونین کے مطابق گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں اور پینشن کی عدم ادائیگی کے باعث سینکڑوں خاندان شدید مالی مشکلات، ذہنی دباؤ اور معاشی پریشانی کا شکار ہیں۔ مہنگائی کے موجودہ دور میں ملازمین، بزرگ پینشنرز اور مرحوم ملازمین کے اہلِ خانہ کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا انتہائی دشوار ہو چکا ہے اور متعدد خاندان فاقہ کشی جیسی سنگین صورتحال سے دوچار ہیں۔
یونین نے بتایا کہ اتھارٹی کا تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگی سے متعلق سرکاری چیک 30 جون 2026 کو رات تقریباً 9 بجے اکاؤنٹنٹ جنرل بلوچستان سے جاری ہوا، تاہم بینک کے اوقاتِ کار ختم ہونے کے باعث متعلقہ بینک میں جمع نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں ادائیگی کا عمل رک گیا اور ملازمین و پینشنرز مشکلات میں مبتلا ہو گئے۔
پسنی فش ہاربر یونین نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان سے پرزور اپیل کی ہے کہ محکمہ خزانہ بلوچستان کو فوری ہدایات جاری کی جائیں تاکہ متعلقہ بینک کو چیکوں کی مدتِ ادائیگی میں توسیع کے لیے ضروری سرکولر جاری کیا جا سکے اور ملازمین و پینشنرز کی رکی ہوئی تنخواہوں اور پینشن کی فوری ادائیگی ممکن بنائی جا سکے۔
یونین نے امید ظاہر کی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان اس انسانی اور فلاحی مسئلے کا ہمدردانہ نوٹس لیتے ہوئے فوری عملی اقدامات کریں گے، تاکہ سینکڑوں متاثرہ خاندان اس طویل مالی بحران اور ذہنی اذیت سے نجات حاصل کر سکیں۔

