ملک کے موجودہ صوبے محض انتظامی ڈھانچے نہیں بلکہ تاریخی، قومی، ثقافتی اور جغرافیائی شناخت رکھنے والی قومی اکائیاں ہیں،مرکزی ترجمان نیشنل پارٹی

کوئٹہ(این این آئی)نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث کے رد عمل میں کہا ہے کہ ملک کے موجودہ صوبے محض انتظامی ڈھانچے نہیں بلکہ تاریخی، قومی، ثقافتی اور جغرافیائی شناخت رکھنے والی قومی اکائیاں ہیں۔ ماضی میں سامراجی پالیسیوں اور غیر فطری انتظامی تقسیم کے نتیجے میں بہت سے علاقے اپنی اصل قومی وحدتوں سے الگ کیے گئے تھے، اس لیے اب قومی وحدتوں کی تقسیم کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ نیشنل پارٹی نئے صوبوں کے قیام کے نام پر قومی اکائیوں کی مزید تقسیم کو مسترد کرتی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ملک کا حقیقی مسئلہ نئے صوبے بنانا نہیں بلکہ آئین پر مکمل عمل درآمد، پارلیمنٹ کی بالادستی، قومیتوں کے وجود و خودمختاری کا احترام، وسائل کی منصفانہ تقسیم، اظہارِ رائے کی آزادی، آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ و الیکشن کمیشن، اور بااختیار مقامی حکومتوں کا قیام یقینی بنانا ہے۔ یہی وہ بنیادی تقاضے ہیں جن پر عمل درآمد سے عوامی ترقی ممکن اور جمہوریت مستحکم ہو سکتی ہے۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا سیاسی نظام جمہوری اور پارلیمانی اصولوں پر استوار ہے، اور اسی نظام کو حقیقی معنوں میں آئین کے مطابق چلانے سے ملک میں سیاسی استحکام، قومی ہم آہنگی اور پائیدار تعمیر و ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔بیان میں کہا گیاکہ نیشنل پارٹی ایسے ہر اقدام کو مسترد کرتی ہے جو قومی اکائیوں کے تاریخی وجود، قومی شناخت و حیثیت کو متاثر کرنے کا باعث بنے، نیشنل پارٹی سمجھتی ہے کہ مضبوط وفاق کی بنیاد قومی اکائیوں کے حقوق، شناخت اور خودمختاری کے احترام میں مضمر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں