کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان اسمبلی نے یوم استحصال کشمیر کی مناسبت سے مذمتی قرارداد منظور کرلی۔بدھ کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی نے صوبائی وزراء میر محمد صادق عمرانی، میر ظہور احمد بلیدی، میر شعیب نوشیروانی، فیصل خان جمالی اور پارلیمانی سیکرٹری برکت علی رند کی مشترکہ قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370 مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت، اپنا آئین، اپنا پرچم اور داخلی خودمختاری فراہم کرتا تھا جبکہ آرٹیکل 35(A) ریاست کے مستقل باشندوں کو سرکاری ملازمت، جائیداد اور سکونت کے خصوصی حقوق دیتا تھا۔ ان دفعات کے خاتمے کے ذریعے بھارت نے کشمیری عوام کی شناخت، آئینی حیثیت اور بنیادی حقوق سلب کرنے کی کوشش کی ہے ایوان نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ان اقدامات کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرتے ہوئے آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ غیر کشمیری افراد کو زمینوں کی خریداری اور سرکاری ملازمتوں تک رسائی دے کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے قرارداد میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی، محاصروں، ماورائے عدالت گرفتاریوں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور میڈیا پر عائد پابندیوں کی بھی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ یہ اقدامات کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور ان کی جائز امنگوں کو دبانے کی ناکام کوشش ہیں بلوچستان اسمبلی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی، اخلاقی اور قانونی حمایت جاری رکھے گا اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا قرارداد میں 5 اگست کو ہر سال “یومِ استحصالِ کشمیر” کے طور پر منانے کی توثیق کرتے ہوئے اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ ملک بھر میں اس دن مختلف تقریبات کے ذریعے عالمی برادری کو بھارتی مظالم سے آگاہ کیا جائے گا اور کشمیری عوام کی جدوجہد کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے گا ایوان نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے تاکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مؤثر اور فعال سفارتکاری کے ذریعے مزید بھرپور انداز میں اٹھایا جائے، جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی قانونی اور سفارتی معاونت کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی بھی تشکیل دی جائے قرارداد کے اختتام پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی عظیم قربانیوں، ثابت قدمی اور جدوجہدِ آزادی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور بارگاہِ الٰہی میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کشمیری عوام کو ظلم و جبر سے جلد نجات عطا فرمائے اور انہیں آزادی، امن اور انصاف کی نعمت سے سرفراز کرے۔قرارداد پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر ریونیو میر عاصم کر دگیلو نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں نسانی حقوق کی تنظیموں کی نشاندھی کے باوجود بھارتی حکمران ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں ہم اپنے کشمیری عوام کے ساتھ ہیں میری تجویز ہے کہ اب بھارت سے فیصلہ کن جنگ ہونی چاہیے۔ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انڈیا نے جو پابندیاں لگائی ہیں ہم اس مذمت کرتے ہیں ہم سب اس قرارداد کی حمایت کرتے ہیں۔صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ انڈیا مقبوضہ جموں و کشمیر پر زبردستی قابض ہے5 اگست 2019 کے بعد انڈیا نے کشمیری عوام پر مظالم بڑھادئیے ہیں، کئی ممالک بھارت کی پشت پناہی کررہے ہیں انڈیا بلوچستان میں مداخلت کررہاہے، جمعیت علماء اسلام کی رکن شاہد رؤف نے کہا کہ ہم اس ایوان کے ذریعے کشمیری عوام کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرائیں۔صوبائی وزیر میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے انڈیا صرف کشمیر، بلوچستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں دہشتگردی کررہا ہے انڈیا کو دہشت گرد ملک قرار دیا جائے۔وزیراعلیٰ کی مشیر مینہ مجید نے کہا کہ ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام پر انڈیا کے ظلم کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان کی تمام اسمبلیوں نے اپنے کشمیر کے عوام کی حمایت کی ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کے رکن انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی اپنے تاریخی حیثیت تھی 2019 میں انڈیا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخی حیثیت ختم کی ہم اس قرارداد کی حمایت کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ سننے میں آرہا ہے کہ 18 ویں ترمیم کو ختم کیاجارہا ہے 18 ویں ترمیم ختم ہونے سے صوبائی خود مختاری پر اثر پڑے گا۔صوبائی وزیر میر صادق عمرانی نے کہا کہ ہم کشمیری عوام پر انڈیا کے مظالم کی مذمت کرتے ہیں پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے ملک کو ایٹمی ملک بنانے کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو کو جاتا ہے، اسلامی ممالک پر ہونے مظالم پر عالمی طاقتیں خاموش رہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اس ملک کے لئے قربانیاں دی ہیں، ملک کی سالمیت کے لئے عوام کو حقوق دینے ہوں گے زیارت اور مانگی کے واقعات انتہائی افسوس ناک ہیں بعدازاں بلوچستان اسمبلی نے مقبوضہ کشمیرکی آئینی حیثیت ختم کئے جانے کیخلاف مذمتی قرار داد منظور کرلی

