کوئٹہ(رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ، ممتاز قبائلی شخصیت ” میر خیر اللہ جتک ” نے دختر جتک قوم بی بی آسماء جتک کے ضعیف العمر والد ماسٹر عنایت جتک کے سفاکانہ قتل کی مذمت کرتے ھوئے واضع کیا ہے۔ کہ اب جتک قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ھوچکا ہے۔ کیونکہ قاتلوں نے شریعی اور قبائلی حدود کو پار کرلیا ہے۔ اور اس کی سرپرستی براہ راست نواب ثناءاللہ زہری کررہے ہیں۔ پہلے آسماء بی بی کے منگیتر ، پھر ان کے ماموں ، اسکے بعد وڈیرہ غلام سرور موسیانی، پھر سردار زادہ کامران جان جتک اور ” پیر مرد ضعیف العمر والد کا قتل تمام تر روایات کو پامال اور سفاکیت کی انتہاء ہے۔ اور ساری دنیا جانتی یے۔ کہ قاتل ظہور جمالزئی نواب زہری کا نائب خاص ہے۔ آسماء جتک کے اغواء اور تین قتل کے باوجود نواب زہری ظہور جمالزئی کو وزیر اعلیٰ بلوچستان ھاؤس بھی لاتے رہے۔ اور افسوس یہ کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اس کو پہنچانتے ھوئے بھی آنکھیں بند رکھتے۔ لہزا آسماء بی بی اور جتک قوم کے مجرموں میں سرفراز بگٹی بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا۔ کہ جتک قوم امن پسند ضرور ہے۔ مگر لغور نہیں ، حکومت قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو گرفتار کرتی ہے یا نہیں ، جتک قوم کو اب اس سے کوئی غرض نہیں ، جتک قوم اس ظلم کیخلاف اپنا فیصلہ خود کرنے کا حق اور طاقت رکھتی ہے۔ قوم کی بیٹی ، اس کے منگیتر ، ماموں اور والد کو انصاف فراہم کرنا جتک قوم پر فرض ہے۔

