کوئٹہ(این این آئی)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ برانچ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جمعہ کو صدر پی ایم اے کوئٹہ برانچ ڈاکٹر نادر خان اچکزئی کی قیادت میں وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبے میں شعبہ صحت کو درپیش چیلنجز، ڈاکٹروں کے مسائل، تدریسی و ٹرشری کیئر ہسپتالوں کی انتظامی صورتحال اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے وزیرِ صحت کو ڈاکٹروں کو درپیش انتظامی، پیشہ ورانہ اور سروس سے متعلق مسائل سے آگاہ کیا اور ان کے فوری اور دیرپا حل کے لیے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی سفارشات پیش کیں۔وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ حالیہ عرصے میں معطل کیے گئے تمام ڈاکٹروں کو آئندہ دو سے تین دن کے اندر ان کی سابقہ جائے تعیناتی پر بحال کر دیا جائے گا تاکہ طبی خدمات کا تسلسل برقرار رہے اور ڈاکٹروں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو۔وزیرِ صحت نے مزید یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تیار کیے جانے والے ہیلتھ سیکورٹی ایکٹ میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کو بطور اہم اسٹیک ہولڈر شامل کیا جائے گا تاکہ قانون سازی کے عمل میں ڈاکٹرز برادری کی پیشہ ورانہ آراء، تجربات اور تجاویز کو مؤثر انداز میں شامل کیا جا سکے۔ملاقات کے دوران وزیر صحت بخت محمدکاکڑنے یہ بھی اعلان کیا کہ Semi-Autonomous Act کو جلد از جلد صوبے کے ٹرشری کیئر ہسپتالوں، بالخصوص بولان میڈیکل ہسپتال اور پروانشنل سنڈیمن سول ہسپتال میں نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ کے تحت تشکیل دی جانے والی گورننگ باڈی ہسپتالوں کے انتظامی، مالی اور پالیسی امور کی نگرانی کرے گی۔ مستقبل میں بھرتیوں (Recruitment)، تقرریوں (Appointments)، انسانی وسائل کے انتظام، ادارہ جاتی اصلاحات اور دیگر انتظامی معاملات اسی گورننگ باڈی کے ذریعے انجام دیے جائیں گے تاکہ ہسپتالوں کو سیاسی اور غیر ضروری انتظامی مداخلت سے محفوظ رکھتے ہوئے مؤثر، شفاف اور جوابدہ نظام قائم کیا جا سکے۔وزیر صحت بخت محمد کاکڑنے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ ڈاکٹروں کے تمام جائز مطالبات اور پیشہ ورانہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور حکومت ڈاکٹرز برادری کو صوبے کے صحت کے نظام کا بنیادی ستون سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ مسلسل مشاورت کا عمل جاری رکھے گی۔انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے ساتھ یہ ملاقات پہلے ہونی چاہیے تھی تاہم تاخیر پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ”دیر آئے، درست آئے“۔ انہوں نے آئندہ بھی باقاعدگی سے پی ایم اے اور دیگر نمائندہ طبی تنظیموں کے ساتھ مشاورتی نشستوں کے انعقاد کی یقین دہانی کرائی تاکہ صحت سے متعلق پالیسی سازی میں تمام متعلقہ فریقین کی رائے شامل کی جا سکے۔صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ برانچ ڈاکٹر نادر خان اچکزئی نے وزیرِ صحت کی مثبت سوچ، سنجیدہ رویے اور یقین دہانیوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ہمیشہ مریضوں کے بہترین مفاد، ڈاکٹروں کے وقار اور صوبے میں صحت کے نظام کی بہتری کے لیے حکومت کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعاون پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اسی جذبے کے ساتھ ڈاکٹرز برادری کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرتی رہی تو پی ایم اے ہر مثبت اصلاحاتی اقدام میں حکومت کا بھرپور ساتھ دے گی۔صدر پی ایم اے نے اس امر پر بھی زور دیا کہ صحت کے شعبے میں پائیدار اصلاحات صرف اسی صورت ممکن ہیں جب ڈاکٹرز کی نمائندہ تنظیموں کو قانون سازی، پالیسی سازی اور ادارہ جاتی فیصلوں میں باقاعدہ شریک کیا جائے۔وزیرِ صحت بلوچستان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ڈاکٹرز اور مریضوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، طبی اساتذہ اور دیگر طبی تنظیموں کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کرے گی تاکہ صوبے میں صحت کی معیاری، مؤثر اور عوام دوست سہولیات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔آخر میں صدر پی ایم اے کوئٹہ برانچ ڈاکٹر نادر خان اچکزئی اور وفد کے دیگر اراکین نے وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کا ملاقات، مثبت طرزِ عمل اور اہم یقین دہانیوں پر شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ آج ہونے والی پیش رفت جلد عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آئے گی اور حکومت و ڈاکٹرز برادری کے درمیان باہمی اعتماد، تعاون اور مشاورت کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

