کوئٹہ(این این آئی)آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک عبدالغفار مندوخیل اور صدر میرعبدالسلام لانگوکی زیرصدارت ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور ٹھیکیداروں کا ایک مشترکہ اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وائس چیئرمین میر شکیل لہڑی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری صلاح الدین کبزئی،سیکرٹری اطلاعات سرور جان مندوخیل، سیکرٹری فنانس محمد ادریس جان لانگو،آفس سیکرٹری میرابرار رئیسانی، نائب صدر میرعدنان لہڑی بلوچستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ضلعی صدور اوردیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں ٹھیکیداروں کو درپیش مسائل اور مختلف محکموں کے افسران کی جانب سے ٹھیکیداروں سے غیر قانونی کمیشن کے مطالبے پر غورو خوض کیا گیا اوراہم فیصلے کئے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹر ایسوسی ایشن 30 جنوری 2026 کو جاری ہونے والے ایک کروڑ بتیس لاکھ روپے (1,32,00,000) کے ترقیاتی فنڈز کو مبینہ طور پر پانچ ماہ بعد جون 2026 میں لیپس کیے جانے کے معاملے کی پرزور مذمت کرتی ہے یہ معاملہ اس لیے بھی انتہائی سنگین اور قابلِ تشویش ہے کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 30 جنوری 2026 کو مذکورہ فنڈز کی ریلیز سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کو بھیجی گئی جبکہ متعلقہ ہیڈ کلرک نے اس ریلیز کو باقاعدہ وصول بھی کیا اس کے باوجود متعلقہ ایکسیئن نے تقریباً پانچ ماہ بعد جون 2026 میں ایک کروڑ بتیس لاکھ روپے کے فنڈز لیپس کر دیے آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹر ایسوسی ایشن اس بات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتی ہے کہ مذکورہ فنڈز کے معاملے میں ٹھیکیدار سے مبینہ طور پر غیر قانونی رقم/کمیشن کا مطالبہ کیا گیا اور رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں فنڈز جاری نہ کرنے اور بالآخر انہیں لیپس کرنے کا معاملہ سامنے آیا اگر یہ الزامات تحقیقات میں درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف انتہائی سنگین بدعنوانی بلکہ سرکاری فنڈز کے استعمال کے نظام پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ بتیس لاکھ روپے بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے کے عوام کے ترقیاتی فنڈز ہیں ان کا لیپس ہونا صرف ایک ٹھیکیدار کا نقصان نہیں بلکہ صوبے کے عوام اور ترقیاتی منصوبوں کا نقصان ہے۔ اتنی بڑی رقم کا دستیاب ہونے کے باوجود استعمال نہ ہونا اور پانچ ماہ بعد لیپس ہو جانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ تحقیقات معاملہ ہے۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ 30 جنوری 2026 کی فنانس ریلیز، سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کو اس کی ترسیل، متعلقہ ہیڈ کلرک کی جانب سے وصولی اور اس کے باوجود جون 2026 میں فنڈز کے لیپس کیے جانے کے پورے معاملے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن واضح کرتی ہے کہ بلوچستان کے ٹھیکیدار کسی بھی غیر قانونی مطالبے یا مبینہ کرپشن کا حصہ نہیں بنیں گے ہم اپنے جائز حقوق اور صوبے کے ترقیاتی فنڈز کے تحفظ کے لیے ہر قانونی فورم سے رجوع کریں گے اس معاملے میں ایسوسی ایشن نے فیصلہ کیا ہے کہ متعلقہ ایکسیئن، ہیڈ کلرک، ایس ڈی سی اور اکاؤنٹس کلرک کے کردار کی تحقیقات اور ذمہ داری کے تعین کے لیے دستیاب ریکارڈ اور شواہد کی بنیاد پر بہت جلد بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا اور قانونی کارروائی/درخواست دائر کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومتِ بلوچستان، چیف سیکریٹری بلوچستان، محکمہ خزانہ اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ30 جنوری 2026 کی فنانس ریلیز سے لے کر جون 2026 میں ایک کروڑ بتیس لاکھ روپے کے لیپس کیے جانے تک پورے معاملے کی شفاف، غیر جانب دارانہ اور مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔اگر تحقیقات میں کسی بھی افسر یا اہلکار کی غفلت، اختیارات کے ناجائز استعمال، غیر قانونی مطالبے یا کسی اور بے ضابطگی کا ثبوت ملتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کا واضح مؤقف ہے کہ بلوچستان کے ترقیاتی فنڈز عوام کی امانت ہیں کسی بھی فرد کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ذاتی مفادات یا مبینہ کرپشن کی وجہ سے عوام کے ترقیاتی فنڈز کو ضائع یا لیپس کروائے ہم انصاف، شفافیت اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

