محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے واٹر ٹیکس کی عدم ادائیگی اور بغیر اجازت پانی کے کنکشن استعمال کرنے والے صارفین کے خلاف کارروائی کا آغاز

سیوی(رپورٹر)محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے واٹر ٹیکس کی عدم ادائیگی اور بغیر اجازت پانی کے کنکشن استعمال کرنے والے صارفین کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں متعدد کنکشن منقطع کردیئے ایکسین پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سیوی شہزادہ فروخ بلوچ اور ایس ڈی او گلاب سومروکی ہدایات پر سپروائزر ملک اسد سیلاچی کی زیر نگرانی محکمہ پبلک ہیلتھ کی ٹیم نے شدید گرمی کے باوجود سیوی شہر کے مختلف علاقوں اللہ آباد، ہاشمی مسجد، ٹی وی پوسٹر روڈ اور دیگر مقامات کا دورہ کیا اور واٹر ٹیکس جمع نہ کرانے والے صارفین کے کنکشن کاٹ دیے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے حکام کے مطابق واٹر سپلائی نظام کو بہتر انداز میں چلانے، پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے اور شہریوں کو بلا تعطل پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے واٹر ٹیکس کی بروقت ادائیگی انتہائی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں نادہندگان کو پہلے بھی واٹر ٹیکس کی ادائیگی کی ہدایات دی جاتی رہی ہیں، تاہم عدم ادائیگی کا سلسلہ جاری رہنے پر محکمہ نے عملی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے اس موقع پر سپروائزر ملک اسد سیلاچی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی ذمہ داری شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانا ہے اور پانی دینا ہمارا فرض ہے، تاہم شہریوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے ماہانہ واٹر ٹیکس باقاعدگی سے جمع کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے، مگر شہریوں کے تعاون کے بغیر نظام کو مؤثر طریقے سے چلانا مشکل ہے انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بغیر اجازت پانی کے کنکشن ہرگز نہ لگائیں اور نہ ہی کسی غیر قانونی طریقے سے سرکاری واٹر سپلائی لائن سے پانی حاصل کریں۔ نئے کنکشن کے حصول کے لیے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سے باقاعدہ درخواست دے کر قانونی طریقہ کار مکمل کیا جائے، جس کے بعد محکمہ کی جانب سے منظور شدہ طریقہ کار کے مطابق کنکشن فراہم کیا جائے گا ملک اسد سیلاچی نے واضح کیا کہ بغیر اجازت کنکشن لگانے یا واٹر سپلائی لائن سے غیر قانونی طور پر پانی حاصل کرنے والوں کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کو غیر قانونی کنکشن کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس سے نہ صرف محکمہ کو مالی نقصان پہنچتا ہے بلکہ دیگر صارفین کو بھی پانی کی فراہمی متاثر ہوتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ واٹر ٹیکس کی وصولی سے حاصل ہونے والی رقم واٹر سپلائی کے نظام کی دیکھ بھال، لائنوں کی مرمت اور دیگر ضروری امور پر خرچ ہوتی ہے، اس لیے شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے واجبات بروقت ادا کریں تاکہ محکمہ شہریوں کو بہتر اور مسلسل پانی کی سہولت فراہم کرسکے۔محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جانب سے واٹر ٹیکس نادہندگان اور غیر قانونی کنکشن رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں