کیچ کے عوام ایک طویل عرصے سے مختلف مشکلات، محرومیوں اور غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جنہیں مزید نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،میر غفور احمد بزنجو

تربت (این این آئی) پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی سینئر نائب صدر میر غفور احمد بزنجو نے کہا ہے کہ ہم فدا احمد کی سوچ و فکر سے جدا اور میر غوث بخش بزنجو کے سیاسی نظریات کے وارث ہیں، فدا احمد اور میر غوث بخش بزنجو کے نظریات ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔ ایک بلوچستان کی آزادی کا متوالا رہا جبکہ دوسرا پاکستان کا حامی رہا۔ ہم میر غوث بخش بزنجو کی سوچ کے مطابق ریاست کے حامی ہیں اور اسی فریم ورک میں سیاست کر رہے ہیں۔ کیچ کے عوام کو امن، روزگار، کاروبار اور بنیادی حقوق فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اب وقت اعلانات اور وعدوں کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کے سینئر رہنما قاضی نور احمد، ضلعی آرگنائزر میران حیات، حاجی نصیر، خان محمد جان گچکی، اکبر بگٹی، داد جان سبزل، اسفند یار بزنجو، جیئند علی، حاجی شریف، اسلم شمبے زئی، ڈاکٹر لطیف دشتی سمیت دیگر رہنما اور کارکنان موجود تھے۔میر غفور احمد بزنجو نے کیچ کی مجموعی سیاسی، سماجی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیچ کے عوام ایک طویل عرصے سے مختلف مشکلات، محرومیوں اور غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جنہیں مزید نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو عوام کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔انہوں نے کیچ میں امن و امان کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنا حکومت اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن زمینی صورتحال یہ ہے کہ عام شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ امن و امان کے نام پر کسی بھی قسم کی غفلت، غیر سنجیدگی یا ناقص حکمت عملی قابل قبول نہیں۔ حکومت عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔پی این پی عوامی کے مرکزی سینئر نائب صدر نے سرکاری محکموں اور انتظامی اداروں کی کارکردگی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں کی ناقص کارکردگی عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ سرکاری محکموں کا بنیادی مقصد عوام کو سہولیات فراہم کرنا اور ان کے مسائل حل کرنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام سرکاری محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے والے افسران و اہلکاروں کا احتساب کیا جائے۔میر غفور احمد بزنجو نے کہا کہ کیچ کا ایک اہم مسئلہ بے روزگاری اور معاشی بدحالی ہے۔ نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار سے محروم ہیں، جبکہ سرکاری ملازمتوں، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر معاشی مواقع میں مقامی نوجوانوں کو ان کا جائز حق نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ کیچ کے نوجوان خیرات نہیں بلکہ روزگار کے مساوی اور منصفانہ مواقع چاہتے ہیں۔ حکومت بھرتیوں میں میرٹ اور مقامی لوگوں کے حق کو یقینی بنائے۔انہوں نے بارڈر کی بندش کو کیچ کی معیشت کے لیے شدید نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں خاندان سرحدی تجارت سے وابستہ ہیں اور بارڈر کی بندش سے صرف تجارتی راستہ بند نہیں ہوتا بلکہ ہزاروں گھروں کے چولہے متاثر ہوتے ہیں، کاروباری سرگرمیاں محدود اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت قانونی تجارت اور روزگار کے لیے بارڈر کو باقاعدہ اور مستقل بنیادوں پر کھولے، غیر ضروری رکاوٹیں ختم کرے اور بارڈر سے وابستہ مقامی لوگوں کے معاشی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔انہوں نے صحافیوں اور ڈاکٹرز کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہیں جبکہ ڈاکٹرز انسانی جانیں بچانے کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں۔ کسی فرد یا ادارے کو قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں اور ڈاکٹرز کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔میر غفور احمد بزنجو نے کہا کہ اگر عوام کو امن میسر نہیں، نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا، کاروباری طبقہ معاشی مشکلات کا شکار ہے، بارڈر بند ہے اور بنیادی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے تو عوام آخر کس سے امید رکھیں؟ حکومت کو محض اعلانات اور یقین دہانیوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کیچ کے صحافیوں کو ایسا باوقار، محفوظ اور آزاد پلیٹ فارم ملنا چاہیے جہاں وہ آزادانہ، ذمہ دارانہ اور پیشہ ورانہ صحافت کے فرائض انجام دے سکیں۔ صحافیوں کو درپیش مسائل کا حل اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی ریاست اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔آخر میں میر غفور احمد بزنجو نے کہا کہ کیچ کے عوام اپنے بنیادی حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ امن، روزگار، کاروبار، بارڈر سے وابستہ معاشی سرگرمیاں، اظہارِ رائے اور آزاد صحافت عوام کا حق ہیں جبکہ صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوامی مسائل کو مزید نظر انداز کرنے کی پالیسی قابل قبول نہیں، حکومت اور متعلقہ اداروں کو اب عملی اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ کیچ کے عوام کو مزید وعدوں کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں