پنجگور(این این آئی) 6 ستمبر یوم دفاع کی مناسبت سے پنجگور میں یونیورسٹی آف مکران پنجگور سے اللہ اکبر چوک اور پھر اللہ اکبر چوک سے یونیورسٹی تک ایک تاریخی ریلی کا انعقاد کیا گیا.ریلی کی قیادت ڈپٹی کمانڈنٹ ایف سی پنجگور رائفلز کرنل معراج عالم نے کی جبکہ ریلی کی قیادت میں یونیورسٹی آف مکران کے وائس چانسلر پروفیسر میر سعادت بلوچ سعود احمد ساسولی، بجار خان شمبے زئی،،حق دو تحریک کے ملا فرہاد،پی ٹی آئی کے اسداللہ بلوچ، مسلم لیگ ن کے رہنما اشرف ساگر اور دیگر شریک تھے.ریلی میں ضلع بھر کے کالجز کے پرنسپل،تعلیمی اداروں کے سربراہاں،پرائیویٹ اور سرکاری اداروں کے بچوں نے شرکت کی.ریلی کے شرکا کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز تھے جن پر یوم دفاع کی مناسبت سے نعرے درج تھے.ریلی کے اختتام پر یونیورسٹی میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جہاں مہمانوں نے یوم دفاع کے حوالے سے اظہار خیال کیا.سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمانڈنٹ کرنل معراج عالم،یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر میر سعادات بلوچ،عطا مہر،اشرف ساگر،پروفیسر نزیر احمد بلوچ،اْسامہ دہانی اور دیگر نے کہاکہ 6 ستمبر 1965 کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب قومیں متحد ہو جائیں، ایمان مضبوط ہو اور فوج و عوام ایک جان بن جائیں تو کوئی دشمن انہیں شکست نہیں دے سکتا۔ اسی لیے ہر سال 6 ستمبر کو پورے ملک میں یومِ دفاع کے طور پر منایا جاتا ہے۔1947 سے کشمیر کا مسئلہ حل طلب تھا۔ بھارت نے کشمیر پر قبضہ کر رکھا تھا اور وہاں کے مسلمانوں پر ظلم کر رہا تھا۔ پاکستان نے اگست 1965 میں کشمیریوں کی حمایت کے لیے یہ آپریشن شروع کیا تاکہ کشمیری اپنی آزادی کی جنگ لڑ سکیں.بھارت کا جوابی حملہ بھارت نے 6 ستمبر 1965 کی رات کو بغیر اعلان کے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے لاہور، سیالکوٹ اور کشمیر کے محاذوں پر حملہ کر دیا۔ بھارتی وزیراعظم نے کہا تھا ہم لاہور میں ناشتہ کریں گے.رات 3 بجے بھارتی فوج کے ٹینک واہگہ بارڈر سے لاہور میں داخل ہوئے۔ مقصد تھا چند گھنٹوں میں لاہور پر قبضہ کرنا۔ لیکن پاک فوج کے جوان جاگ رہے تھے۔ میجر عزیز بھٹی شہید نے اپنی جان دے کر دشمن کے ٹینکوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔پاک فضائیہ کا کردار ایم ایم عالم نے ایک منٹ میں بھارت کے 5 جہاز مار گرائے۔ یہ آج بھی عالمی ریکارڈ ہے۔عوام کا کردارلاہور کے شہریوں نے رات بھر جاگ کر بلیک آؤٹ کیا،زخمیوں کی مدد کی، اور فوج کے لیے کھانا پانی پہنچایا یہ جنگ 6 ستمبر سے 23 ستمبر تک جاری رہی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات بھول کر پوری قوم ایک ہو گئی۔ ریڈیو پر نعرہ تکبیر اور ملی نغمے عوام کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔دفاع کا نظریہ اس جنگ نے نظریہ پاکستان کو عملی طور پر ثابت کیا کہ دو قومی نظریہ ہی پاکستان کے وجود کی ضرورت ہے. انہوں نے کہا کہ آج کے دن شہداء کو خراجِ عقیدت اور اْن بہادروں کو یاد کرنا جنہوں نے وطن کے لیے جان قربان کی۔یومِ شہداء بھی اسی دن منایا جاتاہے پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ کی قربانیوں کو سلام پیش کرنا۔بچوں کو بتانا کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اور اس کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔ہمیں یہ عہد کرنا کہ ہم ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر ملک کے لیے سوچیں گے.انہوں نے کہا کہ دشمن اب سوشل میڈیا اور پروپیگنڈے سے حملہ کرتا ہے.فرقہ واریت اور لسانیت سے بچ کر ایک قوم بن کر ہمیں رہنا اور ہماری اتحاد و اتفاق ہیں ہماری جیت ہے انہوں نے کہا کہ قائد ملت قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا ہمارے پاس فوج کی کمی نہیں، جذبے کی کمی ہے.اگر ہم آج بھی ان تین اصولوں پر عمل کریں تو نہ کوئی بیرونی دشمن ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ اندرونی مسائل۔آئیے اس یومِ دفاع پر ہم سب یہ عہد کریں کہ ہم محنت، ایمانداری اور حب الوطنی سے پاکستان کو وہ مقام دلائیں گے جس کا خواب ہمارے شہداء نے دیکھا تھا۔

