علماء کرام،مدارس ملک کی نظریاتی و فکری اساس کے محافظ ہیں،مولانا عبدالرحمن رفیق

کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حاجی بشیر احمد کاکڑ، حافظ شبیر احمد مدنی، حاجی رحمت اللہ کاکڑ، سید حاجی عبدالواحد آغا، حافظ مسعود احمد، حاجی محمد قاسم خلجی، حاجی ولی محمد بڑیچ، صفی اللہ مینگل اور شاہ زاہد مشوانی نے کہا ہے کہ علماء کرام اور دینی مدارس ملک کی نظریاتی و فکری اساس کے محافظ اور معاشرے کی دینی و اخلاقی تربیت کے مراکز ہیں۔ برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ علماء کرام اور مدارس نے اسلامی تعلیمات دینی شعائر اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے ہمیشہ بنیادی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس محض درس و تدریس کے مراکز نہیں بلکہ قرآن و سنت کی تعلیم کردار سازی اور معاشرے میں دینی شعور کے فروغ کے اہم مراکز ہیں۔ ان اداروں سے وابستہ علماء کرام نے ہر دور میں دین ملک اور ملت کی خدمت کو اپنا فریضہ سمجھ کر انجام دیا ہے چند دین بیزار عناصر کی جانب سے علماء اور مدارس کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا طعن و تشنیع اور منفی مہمات ان کے تاریخی کردار کو کسی صورت متاثر نہیں کرسکتیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان کی نظریاتی بنیاد اسلام ہے اور اس اسلامی تشخص کو کمزور کرنے کی ہر کوشش دراصل ملک کی فکری و تہذیبی بنیادوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید اور معاشرتی اقدار سے بے راہ روی کو ترقی کا معیار سمجھنے والوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ پاکستان کے عوام اپنی دینی تہذیبی اور اسلامی اقدار سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام پر تنقید اور مدارس کے خلاف منظم پروپیگنڈا کسی مثبت اصلاح کا راستہ نہیں بلکہ معاشرے میں دینی طبقے کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علماء اسلام علماء کرام دینی مدارس اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی کو بھی اسلامی اقدار دینی مراکز اور معاشرے کی فکری بنیادوں کو متنازع بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں