کوئٹہ(این این آئی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کے چیئرمین سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پاکستان کی قومی سلامتی، معیشت، توانائی کی فراہمی اور لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، پاکستان کو کسی نئی علاقائی جنگ کا فریق بننے کے بجائے کشیدگی کم کرانے کیلئے فعال سفارتی کردار ادا کرنا چاہیے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ سعودی دارالحکومت ریاض اور اہم تنصیبات پر حوثیوں کے تازہ ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد خطے میں جنگ پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، خلیجی خطے میں کسی بھی بڑی فوجی محاذ آرائی کے پاکستان پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے انتہائی اہم ہے تاہم پاکستان کو سعودی عرب، ایران، ترکی اور یمن کے مختلف فریقوں کے ساتھ اپنے روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے ثالثی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں جو ملکی معیشت کیلئے سالانہ اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بھیجتے ہیں، حکومت کو خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی حفاظت یقینی بنانے اور کسی ہنگامی صورت حال میں ان کے محفوظ انخلا کیلئے ابھی سے جامع منصوبہ تیار کرنا چاہیے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ خلیج اور بحیرہ احمر میں کشیدگی بڑھنے سے تیل، ایل این جی اور تجارتی جہازرانی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کے نتیجے میں پاکستان میں مہنگائی اور پیداواری لاگت مزید بڑھ سکتی ہے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ممکنہ توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے متبادل درآمدی ذرائع، تیل کے محفوظ ذخائر اور مؤثر توانائی پالیسی کے حوالے سے قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ دفاعی معاہدوں یا بیرون ملک فوجی ذمہ داریوں سے متعلق کوئی بھی بڑا فیصلہ پارلیمان کو اعتماد میں لے کر اور پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سعودی عرب کی دفاعی سلامتی، ایران کے ساتھ اہم ہمسائیگی اور ملک کے اندر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تقاضوں میں نہایت محتاط توازن برقرار رکھنا ہوگا۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ علاقائی تنازعات کا پائیدار حل میزائلوں اور ڈرون حملوں میں نہیں بلکہ مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری میں ہے۔

