یونیورسٹی آف تربت میں تدریسی و انتظامی امور پر تنازع شدت اختیار کر گیا

تربت (این این آئی)یونیورسٹی آف تربت میں تدریسی و انتظامی امور پر تنازع شدت اختیار کر گیا۔ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (ASAUT) نے اپنے جائز اور قانونی مطالبات کے حق میں جاری پْرامن احتجاج کو برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹسز پر مشتمل سرکلر کو شدید تشویش کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔ ASAUT کونسل کا کہنا ہے کہ جائز مطالبات حل کرنے کے بجائے تادیبی کارروائی کی دھمکیاں دینا افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یونیورسٹی میں طویل عرصے سے اہم انتظامی عہدوں، بالخصوص رجسٹرار، ڈائریکٹر فنانس اور کنٹرولر امتحانات کو عارضی اور ایکٹنگ بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے، جس سے ادارے کا انتظامی ساخت اور میرٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ASAUT نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام Statutory Positions پر قانون کے مطابق مستقل اور شفاف تقرریوں کا عمل بلا تاخیر مکمل کیا جائے، جبکہ فیکلٹی کی تمام خالی نشستوں پر بھی فوری باقاعدہ اشتہارات جاری کیے جائیں۔انتظامیہ کے حالیہ اقدامات پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ASAUT نے کہا کہ فیکلٹی ممبران کو احتجاج سے روکنے کے لیے شوکاز نوٹسز اور تادیبی کارروائی کا خوف دلا کر اساتذہ کے آئینی و جمہوری حق کو دبایا نہیں جا سکتا۔ اساتذہ کا مطالبہ صرف ادارے میں آئین، قانون اور میرٹ کی بالادستی قائم کرنا ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ دباؤ کے حربے چھوڑ کر سنجیدہ، بامعنی اور عملی اقدامات کی طرف قدم بڑھائے۔ترجمان ASAUT نے واضح کیا ہے کہ ہفتہ اور اتوار کی تعلیمی تعطیل کے باعث احتجاجی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل رہیں گی، تاہم پیر کے روز سے پْرامن اور منظم احتجاجی سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ کونسل نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جب تک تمام جائز مطالبات کی عملی منظوری اور نوٹیفکیشنز جاری نہیں ہوتے، اساتذہ کی قانونی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں