ڈائیلاگ پالیسی

ڈاکٹر حسین احمد پراچہ
پاکستان کی قیادت خطے کے اکثر ممالک ہی کو نہیں سپر پاور امریکہ تک کو قائل کر چکی ہے کہ تنازعات کا حل صرف اور صرف ڈائیلاگ ہے۔ پاکستان گزشتہ سات ماہ سے مذاکرات کے چراغ کو جلائے ہوئے ہے۔ جب یہ دیا ٹمٹمانے لگتا ہے تو کبھی سرِعام اور کبھی پس پردہ امریکہ‘ ایران اور اس تنازع سے بالواسطہ طور پر متاثر ہونے والے خطے کے دیگر فریق‘ پاکستان سے رجوع کرتے ہیں۔ اب یہ تنازع یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل حملوں کی بنا پر مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ امریکہ ایران تنازع سے تیل کی قیمتیں بہت بڑھ چکی ہیں۔ ایک مرتبہ پھر پاکستان کے توسط سے امریکہ اور ایران مذاکرات کی میز پر آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران اسلام آباد ایم او یو کی بنیاد پر مذاکرات جاری رکھنے پر رضامند نظر آتا ہے۔ پاکستان پُرامید ہے کہ تند و سرکش موجوں سے نبرد آزما مذاکرات کی نیّا بالآخر ساحلِ مراد پر پہنچے گی۔
عام پاکستانی اس وقت دہری مصیبت میں گرفتار ہیں۔ ایک تو جنگی صورتحال کی بنا پر پٹرول کی قیمت 400روپے فی لٹر اور ڈیزل کی سوا چار سو روپے فی لٹر تک پہنچ چکی ہے۔ اشیائے ضرورت کی قیمتیں صرف غریب ہی نہیں سفید پوش کی پہنچ سے بھی بہت اوپر جا چکی ہیں۔ عوام کے اس دکھ درد کو بانٹنے کی تمام سیاسی جماعتیں دعویدار ہیں مگر مہنگائی کی مصیبت سے چھٹکارے کیلئے جماعت اسلامی نے عملی قدم اٹھایا اور وہ پاکستان کے بہت سے شہروں میں احتجاج دھرنوں کی صورت میں گزشتہ اڑتیس روز سے کر رہی ہے۔ جماعت نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے پانچ ادوار کیے ہیں مگر حکومت لیوی ختم کرنے پر تیار نہیں اور جماعت اس سے کم کسی ریلیف پر راضی نہیں۔جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ‘ نائب امیر جماعت اسلامی جناب لیاقت بلوچ نے مجھے بتایا کہ ملا جلا کر 135روپے کی فی لٹر مجموعی لیوی کا حکومتی مذاکراتی ٹیم کے پاس کوئی منطقی جواز ہے نہ معاشی دلیل۔ وہ جو آئی ایم ایف کی عائد کردہ مجبوریاں گنواتے ہیں وہ حکمرانوں کے شاہانہ ٹھاٹ باٹ‘ نئے لگژری جہازوں اور تقریبات میں ناقابلِ یقین اسراف پر کوئی قدغن کیوں نہیں لاگو کرتے؟ آئی ایم ایف والے بھی پاکستانی حکومت کی طرح برق گراتے ہیں تو بیچاروں غریبوں پر۔ مذاکرات کے پانچ بے ثمر ادوار کے بعد جماعت اسلامی نے 20ستمبر سے لانگ مارچ بذریعہ ٹرین کراچی سے شروع کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت کے ترجمان کبھی کہتے ہیں کہ اسلام آباد کی سڑکیں کھلی ہیں‘ کبھی کہتے ہیں ہم کسی کو آنے نہیں دیں گے۔ کیلوں والے کنٹینروں اور خندقوں کی خبریں بھی عام ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن صاحب کا اعلان ہے کہ ہم جماعت اسلامی کے پُرامن آئینی و قانونی احتجاج کے تاریخی تسلسل سے سرمو انحراف نہیں کریں گے اور قانون کے دائرے میں عوام الناس کے ساتھ اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ ہماری جماعت اسلامی سے درخواست ہو گی کہ وہ جن لوگوں کیلئے یہ دھرنے اور مارچ کر رہی ہے‘ وہ واقعی مہنگائی سے بے حال ہو چکے ہیں۔ اگر خدانخواستہ علاقائی طور پر جنگی صورتحال طول پکڑتی ہے اور ملک مفاہمت کے بجائے تصادم کی طرف بڑھتا ہے تو پھر پاکستان کے عوام اس چکی کے دو پاٹوں میں بری طرح پس جائیں گے۔ اس لیے جماعت اسلامی حکومت کو مزید کچھ وقت دے اور ایک اور فیصلہ کن مذاکراتی نشست پر آمادگی اختیار کرے۔
چند ہفتوں سے وزیر داخلہ محسن نقوی اور پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے مابین ملاقاتوں کی خبریں آ رہی تھیں جس سے لگتا تھا کہ بات مخاصمت کے بجائے مفاہمت کی طرف بڑھ رہی ہے مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ گزشتہ ہفتے جناب محسن نقوی نے جو پریس کانفرنس کی اس میں ان کا لب و لہجہ ترش تھا۔ اس سے محسوس ہوا کہ حکومت اور تحریک انصاف کے مابین پس پردہ ملاقاتوں میں خاطر خواہ ہوم ورک نہیں ہو سکا۔ ملک کے دو صوبوں میں امن و امان کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دہشت گردی کی کوئی نہ کوئی بڑی واردات ہو جاتی ہے۔ افغان حکومت زبانی طور پر یہ کہتی ہے کہ وہ پاکستان سے اچھی تعلقات چاہتی ہے مگر عملاً اپنے ملک میں موجود کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان کیخلاف دہشت گردی سے روکنے کی بھرپور کوشش نہیں کرتی۔ علاوہ ازیں ملک معاشی عدم استحکام سے دوچار ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ہاتھ میں ڈگریاں ہیں مگر ملازمتیں نہیں۔ فیکٹریاں ہیں مگر اکثر بند پڑی ہیں۔ بیچارے کسان شب و روز محنت کرتے اور مہنگے زرعی مداخل کے اخراجات برداشت کرتے ہیں مگر حکومت کسانوں سے اُنکی لاگت پر بھی گندم خریدنے پر تیار نہیں ہوتی۔ نوجوان غریب اور مراعات یافتہ طبقے کے طرزِ بود و باش کو دیکھتے ہیں تو اُن کا دل کھولتا ہے۔ ان حالات میں جب کوئی اُنکا پرسانِ حال نہیں ہوتا تو وہ کسی نہ کسی طرح ملک چھوڑنے اور بیرونی دنیا میں قسمت آزمائی کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ ان حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کیساتھ مذاکرات کرے۔ دونوں جماعتوں کے مطالبات الگ الگ ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں مولانا فضل الرحمن ایک لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد آئے تھے۔ حکومت نے انہیں پڑاؤ کیلئے جگہ فراہم کی۔ اس دوران شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام کے دھرنا سٹیج سے اپنا زورِ خطابت دکھاتے رہے۔
دو تین روز کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ممکنہ طور پر اپنی ڈائیلاگ پالیسی کی پرفارمنس بیان کریں گے‘ اور ثالثی کی برکات گنوائیں گے۔ وزیراعظم جنرل اسمبلی کو خبردار کریں گے کہ اگر دنیا مفاہمت کے بجائے تصادم کی طرف بڑھتی ہے تو اس سے انسانیت کا مستقبل روشن نہیں تاریک ہو جائے گا۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے موقع پر ممکنہ طور پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملیں گے اور انہیں مذاکرات کی طرف واپس آنے اور کشیدگی سے دامن بچانے پر قائل کریں گے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔وہ گزشتہ روز ڈائیلاگ پالیسی آگے بڑھانے کیلئے ایک بار پھر ایران پہنچ گئے ہیں۔
ادھر وطنِ عزیز میں سیاسی ٹمپریچر تیزی سے اوپر چڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگرچہ جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ اور پی ٹی آئی کے مارچ میں بڑا بنیادی جوہری فرق ہے مگر دونوں کی منزل ایک یعنی اسلام آباد ہے۔ وفاقی وزرا اور دوسری طرف سے پی ٹی آئی کے بعض جوشیلے قائدین کے بیانات نے ماحول میں گرمی اور تلخی بڑھا دی ہے۔ عمران خان کی تینوں بہنوں کی گرفتاری و نظر بندی سے بظاہر مفاہمت کے راستے بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اکثر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں‘ مگر اب تک یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ پنجابی کی ضرب المثل ہے ”ڈُھلیاں بیراں دا کجھ نہیں گیا‘‘‘ یعنی حالات کسی وقت بھی سنوارے جا سکتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف خارجہ ادوار میں اپنی ”ڈائیلاگ پالیسی‘‘ کو وطن عزیز میں بھی صدقِ دل سے اپلائی کریں۔ وہ گرینڈ ڈائیلاگ کا اعلان کر یں‘ پھر تمام سٹیک ہولڈرز ایک چھت کے تلے جمع ہو کر اجتماعی دانش سے پاکستان کے جملہ مسائل و معاملات کا کوئی دیرپا حل تلاش کریں جس پر سب فریق دل و جان سے اتفاق کر لیں۔ موجودہ ملکی حالات کا یہی تقاضا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں