زاہدہ حنا کی علالت کے باوجود قلم سے وابستگی برقرار، بیماری بھی حوصلہ نہ توڑ سکی

زاہدہ حنا
کالم نگار افسانہ نگار ناولٹ نگار محترمہ زاہدہ حنا ایک عرصہ سے علیل ہیں۔ناسازی طبیعت کے باوجود وہ ایکسپریس میں پابندی سے کالم لکھتی رہیں لیکن اب انگلیوں میں قلم تھامنے کی طاقت نہیں رہی تو مجبوری میں کالم نگاری کو بھی منقطع ہوجانا چاہیئے تھا لیکن لکھنے لکھانے سے ان کا رشتہ اتنا مضبوط ہے کہ انگلیوں نے قلم تھامنے سے انکار کیا تو انھوں نے کالم املا( ڈکٹیٹ)کرانا شروع کردیا۔اس طرح ان کے کالم اب بھی باقاعدگی سے چھپ رہے ہیں۔۔میں گزشتہ روز ان کی عیادت کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔میں نے دیکھا کہ ان کا چہرہ پرسکون تھا اور وہ مطمئن تھیں۔جتنی دیر بیٹھا رہا نہ انھوں نے اپنی بیماری اور تکلیف کی کوئ شکایت کی نہ حالات کا کوئ گلہ شکوہ کیا۔ان کا ذہنی اور قلبی سکون و اطمینان میرے لئے قابل رشک کے ساتھ ساتھ باعث حیرت بھی تھا۔زاہدہ حنا میرے داماد علی فرزان کی سگی پھوپی ہیں۔اس لحاظ سے میرا بھی ان سے ایک تعلق ایک رشتہ ہے۔فرزان بتاتے ہیں کہ پھوپی جان اتنی ہمت اور حوصلےوالی ہیں کہ انھیں دیکھ کر ہم لوگوں کے حوصلے بلند ہوجاتے ہیں۔زاہدہ حنا صاحبہ نے ادب اور صحافت کے تقاضوں ہی کو نہیں نبھایا نہایت جاںفشانی سے تن تنہا اپنے بچوں کی پرورش کی انھیں زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔یہ ان کی کامیابی کی بڑی دلیل ہے۔خدا انھیں خوش رکھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں