سانچ: ایک استاد، ایک رفاقت، ایک عہد کی یاد

تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

کچھ لوگ اداروں میں ملازمت کرتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ریٹائر ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ شخصیات اداروں کا حصہ بن کر نہیں بلکہ ادارے کی شناخت بن کر رہتی ہیں۔ ان کی موجودگی صرف کلاس روم، دفتر یا کسی عہدے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ان کے کردار، رویے، محبت، محنت اور تربیت کے اثرات برسوں تک محسوس ہوتے رہتے ہیں۔ گورنمنٹ کالج اوکاڑہ سے پروفیسر راؤ محمد اعجاز کی ریٹائرمنٹ بھی اسی نوعیت کا ایک موقع ہے۔ریٹائرمنٹ کے روزراقم الحروف گورنمنٹ کالج اوکاڑہ میں پروفیسر راؤ محمد اعجازاور دیگر اساتذہ کے ساتھ گفتگو کے لیے موجود تھا۔ راؤ محمد اعجاز نے تقریباً 1997ء میں شعبہ شماریات سے وابستگی اختیار کی اور پھر گورنمنٹ کالج اوکاڑہ میں درس و تدریس کا ایک طویل سفر طے کیا۔ شماریات جیسے مضمون کو طلبہ تک پہنچانا اپنی جگہ ایک ذمہ داری ہے، لیکن ایک استاد کی اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ اس نے کتنے طلبہ کو مضمون پڑھایا بلکہ یہ بھی ہے کہ اس نے ان طلبہ کی شخصیت سازی میں کیا کردار ادا کیا۔ راؤ صاحب کے ساتھی اساتذہ کی گفتگو سے یہی محسوس ہوا کہ ان کی شخصیت کا یہ پہلو بہت نمایاں رہا۔راؤ محمد اعجاز کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر اتحاد اساتذہ کی جانب سے الوداعی تقریب اور ڈنر کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ضلع بھر کی اہم تعلیمی شخصیات، گورنمنٹ کالج اوکاڑہ کے سابق پرنسپلز پروفیسر اعجاز الحق، پروفیسر راؤ اقرار علی، پروفیسر رضا اللہ حیدر، پروفیسر محمد حمود لکھوی اور پروفیسر ظفر علی ٹیپو سمیت دیگر اساتذہ نے شرکت کی اور راؤ محمد اعجاز کی طویل تدریسی خدمات کی تکمیل پر انہیں نیک خواہشات پیش کیں۔تقریب میں جس محبت، خلوص اور اپنائیت کا اظہار کیا گیا، وہ راؤ محمد اعجاز کے ساتھ ان کے ساتھیوں اور تعلیمی حلقوں کی دیرینہ وابستگی کا خوبصورت اظہار تھا۔ یہ محض ایک ریٹائرمنٹ پارٹی نہیں تھی بلکہ ایک ایسے استاد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع تھا جس نے اپنی ملازمت کے دوران ادارے، طلبہ اور ساتھی اساتذہ کے ساتھ ایک مضبوط تعلق قائم کیا۔میں نے راؤ محمد اعجاز سے پوچھا کہ آج وہ خود کو کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ ان کے جواب میں شکوہ یا اداسی کے بجائے خوشی اور اپنے ساتھیوں کے لیے تشکر نمایاں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دوستوں نے جس محبت سے ان کی ریٹائرمنٹ کو یادگار بنایا، اس سے وہ بہت خوش ہیں۔ ان کے لیے یہ تقریب اس بات کا ثبوت تھی کہ انسان اپنے منصب سے نہیں بلکہ اپنے کردار اور تعلقات سے پہچانا جاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے باوجود ان کا گورنمنٹ کالج اوکاڑہ سے تعلق فوری طور پر ختم نہیں ہوا۔ پرنسپل سردار علی حیدر ڈوگر صاحب کی ہدایت کے مطابق ستمبرمیں داخلوں کا عمل مکمل ہونے تک انہیں کالج آتے رہنا ہے۔ شاید اسی لیے ان کے لیے ابھی یہ احساس مکمل طور پر پیدا نہیں ہوا کہ ملازمت کا ایک طویل باب اختتام پذیر ہو چکا ہے۔راؤ محمد اعجاز کے ساتھی استادپروفیسر اصغر صاحب، شعبہ ریاضی نے انہیں دوست سے زیادہ بڑے بھائی کا درجہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق صرف کالج تک محدود نہیں رہا بلکہ ساہیوال میں بھی وہ اکٹھے رہے۔ ان کے مطابق راؤ محمد اعجاز نے ساتھیوں کے ساتھ ہمیشہ بھائیوں جیسا تعلق رکھا اور ان کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔پروفیسر کاشف مجید، شعبہ اردو و شاعر نے راؤ محمد اعجاز کو باپ، استاد اور بڑے بھائی کا درجہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک انتھک اور متحرک رہنما رہے ہیں۔ ان کے الفاظ میں ایک خوبصورت بات تھی کہ راستہ دکھانا ایک بات ہے اور راستہ دینا دوسری بات، جبکہ راؤ صاحب نے دونوں کام کیے۔ یہی وہ خوبی ہے جو کسی استاد یا رہنما کو صرف اپنے عہدے تک محدود نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے دوسروں کے سفر کا ساتھی بنا دیتی ہے۔پروفیسر نذر محمد چودھری اورپروفیسر محمد حامد، شعبہ پولیٹیکل سائنس نے راؤ محمد اعجاز کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں بہترین استاد، بہترین ورکر اور متحرک لیڈر قرار دیا۔ انہوں نے راؤ صاحب کی شخصیت کے حوالے سے یہ شعر بھی پیش کیا”مجھے کہیں تیرا نعم البدل نہیں ملتا”یہ صرف ایک شعری جملہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسے ساتھی کے بارے میں احساس تھا جس نے طویل عرصے تک دوسروں کے ساتھ کھڑے ہو کر کام کیا ہو۔ راؤ محمد اعجاز نے صرف اپنا کام نہیں کیا بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی۔پروفیسر نذر محمد چودھری نے راؤ محمد اعجاز کو گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اوکاڑہ کا ایک بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے ان کی نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں خدمات کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق راؤ صاحب نے نوجوانوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ان کی تربیت پر بھی توجہ دی۔ کالج کے انتظامی معاملات ہوں، صفائی ستھرائی کا مسئلہ ہو یا کوئی دوسری ذمہ داری، راؤ صاحب نے ہر کام میں آگے بڑھ کر حصہ لیا۔ ان کے الفاظ سے یہ احساس نمایاں تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالج کو ان کی کمی محسوس ہوگی۔استاد کی ریٹائرمنٹ دراصل صرف سرکاری ملازمت کا اختتام ہوتی ہے، استاد ہونے کا نہیں۔ کلاس روم سے باہر بھی ایک استاد اپنے شاگردوں کی یادوں میں موجود رہتا ہے۔ اس کی گفتگو، اس کی نصیحت، اس کا پڑھانے کا انداز اور بعض اوقات اس کی ڈانٹ بھی برسوں بعد یاد آتی ہے۔ راؤ محمد اعجاز کے معاملے میں بھی ان کے ساتھیوں کی گفتگو سے یہی محسوس ہوا کہ ان کا اصل سرمایہ ان کے شاگرد، ان کے ساتھی اور وہ یادیں ہیں جو انہوں نے گورنمنٹ کالج اوکاڑہ میں چھوڑی ہیں۔راؤ محمد اعجاز سے میری اس ملاقات کے موقع پر معروف سماجی کارکن،ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) شعبہ خواتین اوکاڑہ، سابق سینئر نائب صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اوکاڑہ اور ایڈووکیٹ ہائی کورٹ مس صائمہ رشید بھی موجود تھیں۔ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ کسی استاد کا تعلق صرف اپنے مضمون اور ادارے تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ معاشرے میں بھی اپنی ایک شناخت قائم کرتا ہے۔گورنمنٹ کالج اوکاڑہ سے راؤ محمد اعجاز کی طویل رفاقت کا ایک باب ضرور مکمل ہوا ہے، مگر ان کی خدمات، محبتیں اور ان کی تربیت سے جڑی یادیں ختم نہیں ہوئیں۔ عہدے اور میزیں بدل جاتی ہیں، کلاس رومز میں نئے استاد آ جاتے ہیں، مگر اچھے استاد اپنے شاگردوں اور ساتھیوں کے دلوں میں موجود رہتے ہیں۔راؤ محمد اعجاز کی الوداعی تقریب میں ضلع بھر کی اہم تعلیمی شخصیات اور گورنمنٹ کالج اوکاڑہ کے سابق پرنسپلز کی شرکت اس بات کا خوبصورت اظہار تھی کہ ایک استاد کی اصل کمائی اس کی ملازمت کے سال نہیں بلکہ وہ احترام ہوتا ہے جو وہ اپنے ساتھیوں، شاگردوں اور ادارے سے حاصل کرتا ہے۔راؤ محمد اعجاز کے لیے یہ ریٹائرمنٹ اختتام نہیں بلکہ زندگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، خوشی، سکون اور آسانیوں بھری زندگی عطا فرمائے۔ وہ جس محبت سے اپنے ساتھیوں، شاگردوں اور ادارے کو یاد کرتے ہیں، وہ محبت بھی ان کے ساتھ ہمیشہ قائم رہے۔ استاد کلاس روم سے رخصت ہو سکتا ہے، مگر اگر اس نے دلوں میں جگہ بنائی ہو تو وہ کبھی ریٹائر نہیں ہوتا٭

گورنمنٹ کالج اوکاڑہ کے پروفیسر راؤ محمد اعجاز کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ، پروفیسر نذر محمد چودھری، پروفیسر کاشف مجید، پروفیسر محمد اصغر، پروفیسر محمد حامد اور محمد مظہر رشید چودھری، راؤ محمد اعجاز کو یادگاری سووینئر پیش کر رہے ہیں ٭

اپنا تبصرہ بھیجیں