علم و ادب سے گہرا لگاؤ اور کتابوں سے وابستگی کسی بھی باحیات اور بیدار معاشرے کی روح ہوتی ہے،وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی

کوئٹہ(این این آئی)محکمہ ثقافت (کلچر ڈیپارٹمنٹ) کے زیرِ اہتمام منعقدہ پروقار “علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈ” کی شاندار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا ہے کہ علم و ادب سے گہرا لگاؤ اور کتابوں سے وابستگی کسی بھی باحیات اور بیدار معاشرے کی روح ہوتی ہے۔ ہمارے ادیب، محققین، اور شعرا ہمارا عظیم قومی و فکری سرمایہ ہیں جن کی کاوشیں معاشرے کو سمت اور شعور فراہم کرتی ہیں۔تقریب کا باقاعدہ افتتاح سیکرٹری کلچر نے کیا، جبکہ اختتامی نشست کی مہمانِ خاص صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی تھیں۔ تقریب میں صوبے کی پانچ اہم زبانوں —اردو، پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی—میں بہترین نثر نگاری، شاعری، ناول نگاری اور تحقیق و تصنیف پر تقریباً 70 ممتاز قلمکاروں اور اہلِلِ علم کو ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں صوبائی ادبی ایوارڈز سے نوازا گیا۔اپنے تفصیلی خطاب میں صوبائی وزیر تعلیم نے تمام ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی علمی و ادبی خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا وقت کی ضرورت ہے، تاہم ڈیجیٹل فن اور جدید ٹیکنالوجی کی آمد کے باوجود کتاب کی اہمیت و افادیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو ڈیجیٹل دنیا کے ساتھ ساتھ کتب بینی اور مطالعے کی طرف راغب کرنا ہوگا تاکہ ان کی فکری و اخلاقی تربیت پائیدار بنیادوں پر ہو سکے۔راحیلہ حمید خان درانی نے خطے کی مختلف زبانوں میں تخلیق کیے جانے والے ادب کو باہمی یگانگت، امن اور ثقافتی تنوع کا عکس قرار دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ادیبوں، شاعروں اور مصنفین کی سرپرستی جاری رکھے گی تاکہ علم و ادب کا یہ سفر مزید توانائی کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔انہوں نے اس باوقار تقریب کے بہترین انعقاد پر محکمہ ثقافت اور تمام منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ حکومت صوبے میں تعلیمی و ادبی ماحول کی ترویج کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کرتی رہے گی۔ تقریب میں کثیر تعداد میں ادیبوں، دانشوروں، شعرا اور شائقینِ ادب نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں