پی ایم اے بلوچستان بی آر اے کے ناروا ٹیکس اور رجسٹریشن کی شرط کو یکسر مسترد کرتی ہے،ڈاکٹر نعیم زرکون

کوئٹہ(این این آئی)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) سینٹر کی ہدایت پر بدھ کو ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی تمام نجی ہسپتال، لیبارٹریز اور کلینکس مکمل طور پر بند رہے۔ پی ایم اے بلوچستان کی تمام ضلعی کابینہ نے بھی پی ایم اے سینٹر کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنے اپنے اضلاع میں باقاعدہ ہڑتال کی اسی سلسلے میں پی ایم اے بلوچستان کے زیرِ اہتمام بولان میڈیکل کالج (بی ایم سی) کوئٹہ میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ اور ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں پی ایم اے کوئٹہ، پی ایم اے بلوچستان، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) بلوچستان، بی ایم ٹی اے بلوچستان اور الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز نے بھرپور شرکت کی۔ جلسے میں ڈاکٹرز اور الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کی بہت بڑی تعداد موجود تھی، جنہوں نے ایف بی آر اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) کے ناجائز اور ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر پی ایم اے بلوچستان ڈاکٹر نعیم زرکون، صدر پی ایم اے کوئٹہ زون ڈاکٹر نادر اچکزئی، صدر وائی ڈی اے بلوچستان ڈاکٹر حی بلوچ، صدر بی ایم ٹی اے ڈاکٹر عبداللہ اچکزئی، جنرل سیکرٹری پی ایم اے بلوچستان ڈاکٹر زرک محمد شاہی اور جنرل سیکرٹری پی ایم اے (کوئٹہ) ڈاکٹر شعیب بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر برادری پہلے ہی باقاعدگی اور پابندی کے ساتھ اپنے ٹیکس ریٹرنز جمع کرا رہی ہے اور ہر ڈاکٹر ذمہ دار ٹیکس دہندہ ہے۔ اس کے باوجود ایف بی آر نے طبی خدمات کو ریٹیل تجارت کے زمرے میں شامل کر کے نجی ہسپتالوں اور کلینکس پر پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم کی زبردستی تنصیب، ڈیجیٹل انوائسنگ اور سیکشن 175-سی کے تحت چھاپوں، زبردستی نگرانی، بھاری جرمانوں، نوٹسز اور تضحیک آمیز کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔ علاج معالجہ ایک مقدس اور لازمی عوامی خدمت ہے، کوئی تجارتی کاروبار نہیں۔ ڈاکٹر مریض کا علاج کرتا ہے، اشیاء فروخت نہیں کرتا۔مقررین نے کہا کہ بی آر اے کا ٹیکس ایک الگ اور اضافی ٹیکس ہے جو صرف بلوچستان کے ڈاکٹروں پر نافذ کیا گیا ہے۔ پورے پاکستان کے ڈاکٹرز ایک ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جبکہ بلوچستان کے ڈاکٹروں پر ملک کے باقی حصوں سے ہٹ کر بی آر اے کی جانب سے دوہرا ٹیکس مسلط کر دیا گیا ہے، جو سراسر ناانصافی اور امتیازی سلوک ہے۔ پی ایم اے بلوچستان بی آر اے کے اس ٹیکس اور اس کی رجسٹریشن کی شرط کو یکسر مسترد کرتی ہے اور اسے تسلیم نہیں کرتی۔مقررین نے مزید کہا کہ ملک کی صحت کی ضروریات کا بڑا حصہ نجی شعبہ پورا کر رہا ہے، اور یہ اضافی ٹیکس دراصل ایک عوام دشمن ٹیکس ہے، کیونکہ اس کا سارا بوجھ بالآخر غریب مریضوں پر منتقل ہوگا اور علاج مزید مہنگا ہو جائے گا۔ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں، جہاں عوام پہلے ہی صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، ایسے اقدامات عوام کو علاج سے مزید دور کر دیں گے۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر طبی خدمات کو ریٹیل کے زمرے سے فوری طور پر نکالے اور طبی اداروں کے لیے POS سسٹم اور ڈیجیٹل انوائسنگ کی لازمی شرط واپس لے، سیکشن 175-سی کے تحت ڈاکٹروں اور نجی طبی اداروں کے خلاف غیر ضروری چھاپے، زبردستی نگرانی اور ہراسانی فوری بند کی جائے، اور کسی بھی کارروائی میں قانون، تناسب اور باقاعدہ نوٹس و سماعت کے تقاضے پورے کیے جائیں، ڈاکٹروں اور نجی طبی اداروں کو جاری کیے گئے بھاری جرمانے اور نوٹسز فوری واپس لیے جائیں، صحت کو عام تجارتی کاروبار کے بجائے ایک لازمی پیشہ ورانہ اور عوامی خدمت تسلیم کیا جائے، صوبائی حکومت اور بی آر اے صرف بلوچستان کے ڈاکٹروں پر عائد یہ امتیازی ٹیکس اور رجسٹریشن کی شرط فوری طور پر مکمل واپس لیں، اور بلوچستان کے ڈاکٹروں کو ملک کے دیگر صوبوں کے برابر حیثیت دی جائے، ایف بی آر اور بی آر اے کی دوہری ٹیکس و رجسٹریشن ذمہ داریوں کا خاتمہ کیا جائے،وزیرِ اعظم پاکستان اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، پی ایم اے، ایف بی آر اور وفاقی حکومت کے درمیان بامعنی مذاکرات کے ذریعے ایک شفاف اور قابلِ عمل ٹیکس طریقہ کار وضع کیا جائے، اور ڈاکٹروں سے متعلق کسی بھی صوبائی فیصلے سے پہلے پی ایم اے بلوچستان سے مشاورت کی جائے۔مقررین نے واضح کیا کہ 30 ستمبر کی ہڑتال محض علامتی تھی، اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پی ایم اے سینٹر کی ہدایت پر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔پی ایم اے بلوچستان صوبے بھر کے تمام ڈاکٹروں، نجی ہسپتالوں، لیبارٹریز اور کلینکس کے مالکان اور تمام ضلعی کابینہ کا شکریہ ادا کرتی ہے جنہوں نے ہڑتال کو تاریخی طور پر کامیاب بنایا۔ ساتھ ہی پی ایم اے کوئٹہ، وائی ڈی اے بلوچستان، بی ایم ٹی اے بلوچستان اور الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا جاتا ہے جنہوں نے ریلی میں بھرپور شرکت کر کے یکجہتی کا شاندار مظاہرہ کیا۔ پی ایم اے بلوچستان الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کی بھی تہہ دل سے مشکور ہے جس نے اس احتجاج کو بھرپور اور نمایاں کوریج دے کر ڈاکٹر برادری اور عوام کی آواز ایوانوں تک پہنچائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں