بلوچستان واٹر ریسورسز مینجمنٹ بل 2026 پر قائمہ کمیٹی آبپاشی کا تفصیلی غور

کوئٹہ (این این آئی)بلوچستان صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ آبپاشی کا اجلاس صوبائی اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس میں بلوچستان واٹر ریسورسز مینجمنٹ بل 2026 پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں میر محمد صادق عمرانی، پرنس احمد عمر احمدزئی، محمد اصغر رند، نور محمد دمڑ اور لیاقت علی لہڑی نے شرکت کی۔ مستقل چیئرمین کی عدم موجودگی کے باعث اراکین کی باہمی رضامندی سے پرنس احمد عمر احمدزئی کو اجلاس کا صدر نشین نامزد کیا گیا۔ واضح رہے کہ پرنس احمد عمر احمدزئی اس سے قبل کمیٹی کے چیئرمین تھے، تاہم قواعد کے تحت کسی رکن کی بطور پارلیمانی سیکرٹری یا وزیر نامزدگی کے بعد وہ چیئرمین کمیٹی نہیں رہ سکتا۔اجلاس میں سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری محکمہ آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال، ڈپٹی سیکرٹری قانون احسان برکت اور وسیم احمد بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں زیر غور بل کا بنیادی مقصد بلوچستان میں آبی وسائل کے مثر، مربوط اور پائیدار انتظام کے لیے قانونی فریم ورک وضع کرنا ہے۔ بل میں زمین اور پانی کے انتظام سے متعلق اداروں کی تنظیم نو، ان کی استعداد کار اور کارکردگی بہتر بنانے، پانی کے موجودہ و مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط نظام تشکیل دینے اور بلوچستان واٹر پالیسی کے مطابق ادارہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔مجوزہ قانون کے تحت بلوچستان کے آبی وسائل کی پائیدار ترقی، انتظام اور استعمال کو فروغ دینے، عوام کے مفاد میں پانی کی منصفانہ دستیابی یقینی بنانے اور پانی کے انسانی حق کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بل میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، خصوصا سیلاب اور خشک سالی کے خطرات سے نمٹنے، آبی گزرگاہوں اور کیچمنٹ ایریاز کے تحفظ اور پانی کے کفایت شعاری پر مبنی استعمال کو فروغ دینے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔بل میں انٹیگریٹڈ واٹر ریسورسز مینجمنٹ کو فروغ دینے کی تجویز بھی شامل ہے، جس کے ذریعے پانی، زمین اور دیگر متعلقہ وسائل کی مربوط ترقی و انتظام کے ساتھ معاشی و سماجی بہبود اور قدرتی ماحولیاتی نظام کے پائیدار تحفظ کو یقینی بنانا مقصود ہے۔بل کا دائرہ کار بلوچستان کے مجموعی آبی وسائل پر محیط ہوگا، جس میں تالاب، جھیلیں، مستقل و عارضی دریا و ندی نالے، برفانی میدان، گلیشیئرز، فضائی پانی، زیر زمین آبی ذخائر، سطحی پانی کا بہا، آبی علاقے، مینگروز اور بلوچستان کے دائرہ اختیار میں آنے والے ساحلی پانی شامل ہیں۔اجلاس میں کمیٹی ارکان نے بل کی مختلف شقوں پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے اپنی تجاویز پیش کیں۔ اجلاس کے اختتام پر صدر نشین نے کمیٹی ارکان، اسمبلی افسران، محکمہ آبپاشی اور دیگر شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں