کوئٹہ (این این آئی) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری، ہزارہ ٹاؤن کے تاجر رہنماء واحد ہادی، محمد مہدی، عزت اللہ کاظمی، ناصر علی حیدری، نادر امانی، حفیظ اللہ نظری، زیشان علی، حاجی عبدالحئی اور ممبر سپریم کونسل الیاس ہزارہ و دیگر نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سردی کی آمد کے ساتھ ہی کوئٹہ میں گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور شدید کم پریشر نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے، جبکہ مقررہ اوقات میں بھی گیس کا پریشر نہ ہونے کے برابر ہے جس کے باعث گھریلو صارفین کو کھانا پکانے سمیت روزمرہ امور میں شدید دشواری کا سامنا ہہے رہنماؤں نے کہا کہ کوئٹہ میں موسم سرما کے دوران گیس شہریوں کی بنیادی ضرورت بن جاتی ہے اور سردی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی گھروں میں گیس کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے، تاہم اس کے برعکس گیس کی فراہمی محدود کرنے اور کم پریشر کے باعث شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔ گیس کی عدم دستیابی کے باعث عوام کو مہنگے متبادل ایندھن کا استعمال کرنا پڑتا ہے، جس سے گھریلو اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ اوقات میں گیس کی فراہمی کا اعلان کیا جاتا ہے، مگر عملی صورتحال یہ ہے کہ ان اوقات میں بھی کئی علاقوں میں گیس کا پریشر انتہائی کم ہوتا ہے۔ کم پریشر کے باعث چولہا جلانا تک مشکل ہوجاتا ہے اور شہریوں کو گیس کی موجودگی کے باوجود اس سہولت سے مؤثر طور پر فائدہ نہیں مل پاتا۔ رہنماؤں نے کہا کہ سردیاں شروع ہوتے ہی کوئٹہ کے مختلف علاقوں کے عوام گیس کی لوڈشیڈنگ، کم پریشر اور عدم فراہمی کے خلاف سراپا احتجاج ہوجاتے ہیں، احتجاج اور شکایات کے باوجود گیس کمپنی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور عوام کو ہر سال اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو شہریوں کی شکایات کا فوری ازالہ کرنے کے بجائے مسئلے کو نظر انداز کرنے کی روش ترک کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کا مسئلہ ہر سال سردیوں میں شدت اختیار کرتا ہے، لیکن مستقل بنیادوں پر اس کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ سردیوں کے آغاز سے قبل ہی گیس کی طلب، سپلائی اور پریشر کے حوالے سے مؤثر منصوبہ بندی کریں تاکہ شہریوں کو ہر سال اسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سردی کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئٹہ میں گیس کی لوڈشیڈنگ فوری طور پر ختم کی جائے، گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تمام علاقوں میں مناسب پریشر بھی فراہم کیا جائے۔ صرف فراہمی کے اوقات مقرر کرنا کافی نہیں بلکہ ان اوقات میں مطلوبہ پریشر کی فراہمی بھی متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولت کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جاسکتی، حکومت اور متعلقہ ادارے کوئٹہ کے شہریوں کی مشکلات کا فوری نوٹس لیں اور گیس کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنائیں۔ تاجر رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر متعلقہ اداروں نے ہنگامی بنیادوں پر گیس لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کے دیرینہ مسئلے کا مستقل حل نہ نکالا تو تاجر برادری عوام کو ساتھ ملا کر سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

