رؤف کلاسرا
سینیٹ فنانس کمیٹی کے اجلاسوں میں اندازہ ہوتا رہتا ہے کہ ملک میں اس وقت معیشت اور لوگوں کی کیا حالت ہے۔ ویسے تو ہر کمیٹی اجلاس میں بڑے بڑے انکشافات ہوتے ہیں۔ پچھلے دنوں سینیٹر پلوشہ خان کی انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی کا اجلاس تھا جس میں سائبر کرائمز سے لے کر آڈیٹر جنرل آف پاکستان تک کی بھی ایک ٹیلی کام کمپنی کے بارے رپورٹ تھی کہ کیسے پاکستانیوں سے ساڑھے چھ ارب روپے اضافی بلوں میں چپکے سے نکلوا لیے گئے ۔ مزے کی بات یہ تھی پچھلے اجلاس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ایک آڈٹ افسر نے اسی اجلاس میں دھواں دھار تقریر کی تھی کہ پاکستانیوں کو لوٹ لیا گیا ہے۔ لوگوں کی جیبوں سے ساڑھے چھ ارب روپے غیرقانونی طور پر نکلوا لیے گئے ‘ ریگولیٹری ادارہ بھی اس لوٹ مار میں شریک تھا۔ آڈٹ افسر اچھل اچھل کر چھت سے لگ رہا تھا کہ یہ کتنی بڑی زیادتی ہوگئی ہے۔ عوام لٹ گئے۔ اجلاس میں سب سینیٹرز حیران رہ گئے جب وہی آڈٹ افسر اب اچھل اچھل کر اس ٹیلی کام موبائل کمپنی کا دفاع کررہا تھا۔ دفاع ایک طرف وہ اُلٹا کمیٹی کی پاورز چیلنج کرنے لگ گیا کہ آپ اس رپورٹ کو یہاں ڈسکس ہی نہیں کرسکتے‘ یہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کا کام ہے۔ پلوشہ خان نے حیرت سے اس آڈٹ افسر کو کہا آپ کو آج کیا ہوا ہے‘ پچھلے اجلاس میں تو سب سے زیادہ آپ اس رپورٹ پر اس کمپنی کے خلاف دلائل دے رہے تھے‘ آج آپ کا وہ جوش کہاں غائب ہو گیا ہے۔ پلوشہ خان نے بار بار کہا کہ آپ کہیں تو پچھلے اجلاس کی ریکارڈنگ نکلوا کر آپ کو سنائی جا سکتی ہے۔ وہ پھر بھی شرمندہ نہ ہوئے اور کہا کہ رولز کے تحت آپ یہ کیس یہاں نہیں سن سکتے۔ اس پر پلوشہ خان صاحبہ نے سینیٹ رولز منگوا لیے جس میں کہیں نہیں لکھا تھا کہ سینیٹ کمیٹی اس طرح کی رپورٹس پر اجلاس نہیں بلا سکتی یا اسے زیر بحث نہیں لاسکتی۔ یہ سُن کر اس آڈٹ افسر کا پارہ چڑھ گیا اور وہاں موجود وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کی کسی بات پر انہیں ڈانٹ دیا‘ جو کمیٹی ممبران اور وہاں موجود دیگر لوگوں خصوصاً میڈیا کیلئے حیران کن تھا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گریڈ انیس کا افسر اجلاس میں وفاقی وزیر کو یوں ڈانٹ دے۔ ایک لمحہ کیلئے تو کسی کو کچھ احساس نہ ہوا کہ اس آڈٹ افسر نے کیا حرکت کی تو اس نے دوبارہ اپنے الفاظ دہرائے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس آڈٹ افسر کو کمیٹی ممبر شٹ اَپ کال دیتے‘اسی وقت اسے اجلاس سے نکال دیا جاتا اورتحریک استحقاق تیار کر کے استحقاق کمیٹی کو بھیجی جاتی تاکہ پارلیمنٹ ڈسپلنری کارروائی کرتی۔چیئر مین پلوشہ خان کو ایک خط وزیراعظم پاکستان ‘چیئرمین سینیٹ اور ایک خط آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو لکھنا چاہیے تھا کہ ان کے آڈیٹر نے ایک ٹیلی کام کمپنی کو بچانے کیلئے پچھلے اجلاس میں کیا مؤقف اختیار کیا اور اب اس اجلاس میں نہ صرف مؤقف بدلا بلکہ ہاؤس کمیٹی کے اختیارات کو بھی چیلنج کر دیااور اس سے بڑھ کر اس نے ان کی زیرصدارت اجلاس میں بدتمیزی کی اور وزیر صاحبہ سے بھی جس لہجے میں بات کی وہ بھی نامناسب تھا۔ لیکن کمیٹی اراکین اور چیئرپرسن نے اس بدتمیزی کو نظر انداز کردیا جس کا انہیں آنے والے دنوں میں یقینا نقصان ہوگا کہ اب اگر گریڈ انیس کا افسر دھڑلے سے پارلیمنٹ کی کمیٹی کے آگے یوں پہلے ایک پوزیشن لے گا اور بعد میں ممکنہ طور پر لابنگ کے زیر اثر اپنی پوزیشن بدل لے گا بلکہ کمیٹی کی پاورز کو ہی چیلنج کر دے گا اور سب کے ساتھ بدتمیزی کرے گا اور اراکین ری ایکٹ نہیں کریں گے تو یہ سینیٹرز اپنی اور اپنے ہاؤس کی عزت افزائی نہیں کررہے۔یہ ٹرینڈ مزید بڑھے گا کہ افسران جب بھی خود کو پھنسا ہوا پائیں گے تو وہ سینیٹرز کو اونچا بول کر اور دبا کر چلتے بنیں گے۔
کچھ دن پہلے سینیٹ کی ہیومین رائٹس کمیٹی میں ایک ڈی آئی جی نے بھی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ زہری صاحبہ سے اونچے لہجے میں بات کی تو انہوں نے اس ڈی آئی جی کو وہیں فکس کر دیا۔ اگر چیئرپرسن یہ کام نہیں کریں گے تو بیوروکریٹس دھیرے دھیرے آپ کو سیریس لینا چھوڑ دیں گے اور آپ کی رہی سہی عزت بھی جاتی رہے گی۔ سب سینیٹرز کو واضح لگ رہا تھا کہ آڈٹ افسر اس وقت اس کمپنی کی زبان بول رہا تھا جس کے خلاف ساڑھے چھ ارب روپے غیرقانونی وصولی کا آڈٹ پیرا بھی اس نے خود بنایا تھا۔ اندازہ کریں آڈٹ افسر خود پہلے جج بنا‘ پھر جیوری اور پھر جلاد بننے کے بجائے اس موبائل کمپنی کا وکیل بن گیا۔ اگرچہ پلوشہ خان نے اس آڈٹ افسر کی یہ توجیح مسترد کر دی کہ ان کی کمیٹی وہ آڈٹ رپورٹ کی سماعت نہیں کرسکتی کیونکہ وہ بھی پی اے سی کی طرح کی ایک کمیٹی ہے اور دونوں کی ایک جیسی پاورز ہیں۔
یاد آیا جب 2013ء میں نواز شریف صاحب کی حکومت آئی تو جون میں مالی سال ختم ہونے سے دو تین دن پہلے ہی اسحاق ڈار جو وزیرخزانہ تھے ‘نے آئی پی پیز کا 480 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ ایک ہی دن میں ادا کرایا۔ ایک دن میں سمری بنی‘منظور ہوئی‘ اسی دن سٹیٹ بینک کو حکم ملا کہ لاہور کے ان چھ سات بینک اکاؤنٹس جو بجلی گھروں کے تھے میں آج ہی پیسہ ٹرانسفر کرواور وہی کچھ ہوا۔ اس پر اس وقت کے آڈیٹر جنرل اختر بلند رانا نے شدید احتجاج کیا کہ بغیر پری آڈٹ کیسے اربوں کی ادائیگی کر دی گئی۔ قانون کے تحت ان بجلی گھروں کے بل کی سکروٹنی آڈیٹر جنرل آفس نے کرنی تھی کہ بل اصلی تھے‘ کتنے ارب یونٹس کس ریٹ پر خریدے گئے اور کتنی ادائیگی ہونی تھی۔ ان بلوں کے پری آڈٹ کے بعد آڈیٹر جنرل نے ہی اکاؤنٹنٹ جنرل کو ہدایت دینی تھی کہ ادائیگی کردیں۔سٹیٹ بینک کو لکھا جاتا کہ وہ اتنے ارب روپے ان کی ڈسپوزل پر ڈال دے تاکہ وہ پھر ان کمپنیوں کو ٹرانسفر کرسکیں۔ لیکن اس پورے عمل کو بلڈوز کر کے ڈائریکٹ ادائیگی کی گئی جس پر آڈیٹر جنرل اختر بلند رانا نے انکوائری آرڈر کر دی۔ اس کے دو نتیجے نکلے‘ ایک تو فنانس منسٹری نے اگلے سال منی بل میں یہ شق چپکے سے ڈلوا دی کہ آئندہ ان بلوں کی ادائیگی کیلئے پری آڈٹ یا آڈیٹر جنرل یا اکاؤنٹنٹ جنرل کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ادائیگی کر کے بس صدر پاکستان کو اطلاع کر دی جائے گی۔ دوسرا اختر بلند رانا کو اس گستاخی پر سزا دینے کا فیصلہ ہوا۔ ان کے خلاف ریفرنس بنوا کر سپریم جوڈیشل کونسل سے انہیں اپنی تنخواہ بیس ہزار روپے بڑھانے کی سزا کے طور پر ہٹوا دیا گیا۔ وزیرداخلہ چودھری نثار علی خاں کے ذریعے ان پر پاسپورٹ کا الگ سے کیس بنوا کر انہیں چند برس کی سزا بھی دلوا دی گئی۔ پھر بھی غصہ کم نہیں ہوا تو اختر بلند رانا کی پنشن اور گریجوٹی روک لی گئی۔ وہ عدالتوں میں آج بھی دھکے کھارہے ہیں۔ اس آڈٹ رپورٹ میں 190 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کو ہائی لائٹ کیا گیا تھا اور اس میں یہ بھی تھا کہ 32 ارب روپے لیٹ جرمانہ معاف کرایا جاسکتا تھا لیکن نہ کرایا گیا‘ لیکن بعض کمپنیوں پر معاہدے کی خلاف ورزی پر 22 ارب سرکاری جرمانہ معاف کر دیا گیا ۔ اربوں روپے کے بلز کی فوٹوکاپیوں پر ادائیگی کی گئی‘ اوریجنل بلز غائب تھے۔ یہ رپورٹ پی اے سی میں بھی پیش ہوئی اور سینیٹ کی فنانس کمیٹی میں سلیم مانڈوی والا کی کمیٹی بھی اس کی سماعت کرتی رہی۔وہاں آڈٹ افسر نے اعتراض نہیں کیا تھا جیسے اب پلوشہ خان کی کمیٹی میں کیا گیا۔ شاید فرق لابنگ کا ہوگا جو اس دفعہ ساڑھے چھ ارب روپے بچانے کیلئے وہ کمپنی کررہی تھی۔ شاید موجودہ آڈیٹر جنرل نے اختربلند رانا سے سبق سیکھا اور اپنی لائن بدل لی جو دس برس بعد بھی عدالتوں میں اپنی پنشن کیلئے لڑ رہے ہیں کہ انہوں نے ایک ہی دن میں 480ارب روپے کی بغیر آڈٹ سکرونٹی ادائیگی پر انکوائری کیوں شروع کردی تھی۔
Load/Hide Comments

